ہم اپنے اندر کی انفرادیت دبائے، کشمکش کو اپنی ذات کی کسی کال کوٹھری میں پھینکے اور اذیت کو میٹھی نیند سلائے۔ ۔ کسی نہ کسی طرح، خود کو زمانے کے مطابق ڈھال چُکے ہیں۔ ہم سب بدل گئے ہیں اور بدل کر یکساں ہو گئے ہیں۔
پہلی بار زبان سے نکلی بات خواہش ہوتی ہے، جِس میں لُطف ہوتا ہے، جِس کی طلب ہوتی ہے، جسے محسوس کیا جاتا ہے۔ بعد میں یہ سب کُچھ نہیں ہوتا۔ ۔ کہ خواہش، خواہش رہتی ہی نہیں ہے، ضد بن جاتی ہے، پھر لطف، طلب، خوشی۔۔ سب ختم ہو جاتا ہے۔
میں نے کبھی آپ کو بتایا نہیں، لیکن میں آج اعتراف کرنا چاہتی ہوں۔۔ آپ سوچتے ہونگے کہ مجھے کس سے محبت ہے؟ یہ دراصل بہت پہلے ہی مجھ پر ظاہر ہو گئی تھی اور آج میں آپ سب پر ایک راز افشاں کرنے کی ضرورت محسوس کرتی ہوں۔ تو سنیں۔ ۔ حقیقت یہ ہے کہ مجھے پیار اور محبت صرف ایک سے ہے اور وہ انسان، وہ کوئی انسان نہیں ہے، بلکہ ایک کیفیت ہے، آرام اور سکون کی کیفیت۔ ۔ ۔ جی ہاں میری پہلی محبت، میری نیند ہے۔