مجھے اب بھی محبت ہے تیرے قدموں کی آہٹ سے ، تیری ہر مسکراہٹ سے تیری باتوں کی خوشبو سے ، تیری آنکھوں کے جادو سے ، تیری دلکش اداؤں سے ، تیری قاتل جفاؤں سے ، مجھے اب بھی محبت ہے تیری راہوں میں رکنے سے ، تیری پلکوں کے جھکنے سے. سحر و شام ہاتھوں پہ تیرا ہی نام لکھنے سے
کس قدر وہ شخص ٹوٹا ہو گا جس نے یہ الفاظ کہے: لقد غفرت لك ولكل معاناتك العقلية حتى لا نضطر إلى مقابلة الله مرة أخرى میں نے تمھیں اور تمہاری تمام دی گئی ذہنی اذیتوں کو معاف کر دیا تاکہ ہمیں دوبارہ خدا کے سامنے نہ ملنا پڑے۔
اک سمندر ہے جو میرے قابو میں ہے۔۔! اور اک قطرہ ہے جو مجھ سے سنبھالا نہیں جاتا..! اک عمر ہے جو مجھے بیتانی ہے ترے بغیر۔۔! اور اک لمحہ ہے جو مجھ سے گزارا نہیں جاتا..