روز دن کے بعد آتا ہے اندیشہ رات کا
سمجھ میں نہیں آتا قصہ کائنات کا
دنیا میں ہے برپا ہنگامہ محشر آسا
چاروں طرف شور ہے حادثات کا
نا جانے کس کو ملے گی باغِ بہشت
اعمال پر ہے مبنی حساب حیات کا
کل سجدہ کیا فرشتوں نے آج محتسب
عالم اسرار میں کیا مطلب ہے اس بات کا
نقص نکالتے ہیں اشعار میں میرے
میرے بعد کھلے گا راز میری ذات کا
دل کے ترازو کے ساتھ تولنا بیان میرا
خواب میں بھی اثر رہے گا بینات کا
جو اُتر کے زینہِ شام سے، تری چشمِ تر میں سما گئے
وُہی جَلتے بجھتے چراغ سے ،مرے بام و دَر کو سجا گئے
یہ جو عاشقی کا ہے سلسلہ، ہے یہ اصل میں کوئی معجزہ
کہ جو لفظ میرے گُماں میں تھے، وہ تری زبان پہ آ گئے
وہ جو گیت تم نے سُنا نہیں، مِری عُمر بھر کا ریاض تھا
مرے درد کی تھی وہ داستاں، جِسے تم ہنسی میں اُڑا گئے
وہ چراغِ جاں، کبھی جس کی لَو، نہ کسی ہَوا سے نِگوں ہوئی
تری بے وفائی کے وسو سے، اُسے چُپکے چُپکے بُجھا گئے
وہ تھا چاند شامِ وصال کا، کہ تھا رُوپ تیرے جمال کا
مری روح سے مِری آنکھ تک، کِسی روشنی میں نہا گئے
وہ عجیب پُھول سے لفظ تھے، ترے ہونٹ جن سے مہک اُٹھے
مِرے دشتِ خواب میں دُور تک، کوئی باغ جیسے لگا گئے
مِری عُمر سے نہ سمٹ سکے، مِرے دل میں اتنے سوال تھے
ترے پاس جتنے جواب تھے، تری اِک نگاہ میں آ گئے
کہاں ہے اب مجھے ترسانے والا
غم و رنج و ستم برسانے والا
شکایت ہے، نہ ہی شکوہ کسی سے
مرا اپنا ہی تھا اکسانے والا
وہ اب چنگاریوں سے ڈر رہا ہے
جگر کو آگ میں جھلسانے والا
بھری محفل میں گانا گا رہا تھا
کبھی تنہائی میں شرمانے والا
دل و دنیا کی جانب لوٹ کر پھر
نہیں آتا ہے واپس جانے والا
زمانے بھر میں رسوا ہو گیا وہ
زمانے بھر کا دل بہلانے والا
صحیفوں پر عمل پیرا نہ ہو گا
نبیؐ کی آل کو جھٹلانے والا
بھروسہ کچھ نہیں اس رہنما کا
کبھی بھی نکلے گا بھٹکانے والا
اسے چاہا دل و جاں سے زیادہ
کوئی تو ہو اسے سمجھانے والا
غمِ دنیا الگ ہجراں الگ ہے
یہی اک دل سبھی غم کھانے والاً
چشم نمناک نے سمجھنا ہے
میرا غم خاک نے سمجھنا ہے
کتنا پانی ہے تیری آنکھوں میں
ایک تیراک نے سمجھنا یے
تیسرا اس لیے بنایا گیا
جفت کو طاق نے سمجھنا ہے
زخم پیوند کیوں نہیں ہوتا
یہ تیرے چاک نے سمجھنا ہے
میں اڑایا گیا کہ مجھ کو ترے
ہفت افلاک نے سمجھنا یے
دوست، ہم سے گنہگاروں کو
پھر کسی پاک نے سمجھنا ہے
صبر کے لفافے میں
ھم نے تیرے وعدوں کو
تہہ بہ تہہ کر کے
جوڑجوڑ رکھا ھے
کوئ حصہ بسترپر
کوئی حصہ ٹیرس پر
ھم نے تیری یادوں کو
توڑ توڑ رکھا ھے
جن صفحوں پہ زکر ھے
تیرے میرے ملنے کا
ڈائری کے ان ورقوں کو
موڑ موڑ رکھا ھے
KiTNi ajEeb DuNiA H Yawr.🙂
Bc DuNia