تم مجھے اعتبار، بھروسہ اور محبت سکھانا چاہتے ہو. تم کہتے ہو دنیا کو محبت کی آنکھ سے دیکھو، ہر کوئی برا نہیں ہوتا. تم کہتے ہو رشتے خوبصورت ہوتے ہیں، اور ان میں تحفظ ہوتا ہے. تم چاہتے ہو میں آزادی سے اڑنا سیکھ جاؤں، میں ڈرے بغیر خواب دیکھتی جاؤں، اپنی سوچوں کو آزاد چھوڑ دوں اور تخیل کی پرواز میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہ کروں... لیکن میں یہ کیسے کروں؟ بتاؤ مجھے؟ کیا تم نہیں دیکھتے کیسے یہاں ننھے وجود کو کچل دیا جاتا ہے؟ اپنی غلیظ خواہش کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے؟ میں دیکھتی ہوں یہاں ہر دوسرے دن کوئی چڑیا مسلی جارہی ہے، کسی کی معصومیت چھینی جارہی ہے. درندہ صفت گدھ اپنے نجس پنجوں سے نوچنے میں مشغول ہیں اور تم چاہتے ہو میں اعتبار کروں؟ ابھی بھی تم چاہتے ہو میں محبت کروں؟ اعت
ہر شخص میں خودکشی کا الگ انداز ہے! ایک ہے جو اچھے کپڑے پہننا چھوڑ چکا ہے۔ ایک اب آرزوئیں نہیں کرتا۔ ایک نے پڑھائی چھوڑ دی۔ ایک اپنی وضع قطع کی دیکھ بھال نہیں کر رہا۔ ایک غمگین میوزک سننے کا عادی ہو چکا ہے۔ ایک نے اپنے فوٹو بنانا چھوڑ دیے ہیں۔ ایک اب محبت نہیں کر رہا۔ ایک ہے جو محبت کو قبول نہیں کر رہا۔ اور اسی طرح ہے کہ اکثر لوگ 30 سال کی عمر میں ہی مرجاتے ہیں اور 80ویں سال جاکر دفن ہوتے ہیں