سیکھ جا ؤوقت پر کسی کی چاہت کی قد ر کرنا
کو ئی تھک نہ جائے تمہیں احساس دلاتے دلاتے۔

تجھ سے پہلے بھی کئی زخم تھے سینے میں مگر
اب کے وہ درد ہے دل میں کہ رگیں ٹوٹتی ہیں
دل بھر گیا ہے ان کا شاید ہم سے
ان کی بے رخی کا یہ انداز پہلے کبھی نہ تھا
عجیب بے بسی کا موسم ہے دل کے آنگن میں
ترس گئے ہیں تیرے ساتھ گفتگو کے لئے
بس اک بار درد دل کو ختم کردو
وعدہ کرتے ہیں پھر کبھی محبت نہیں کرینگے

بند #مُٹھی سے گرتی #ریت کی مانند.....
وہ #چلا گیا #زندگی سے ذرا #ذرا کر کے.......💔
بچھڑ کے تجھ سے میرے رات دن اذیت تھے
تجھے خبر ہے مجھے تیس دن بخار رہا
باتوں باتوں میں خدا کو یہ بتایا میں نے
مجھ کو اِک شخص ضروری تھا مگر اچھا ، خیر





ہاں یاد آیا اس کے آخری الفاظ یہ تھے۔
اگر جی سکو تو جی لینا ویسے اگر مر جاو تو اچھا ہے۔
بات سے بات کی گہرائی چلی جاتی ہے*
*جھوٹ آ جائے تو سچائی چلی جاتی ہے*
*رات بھر جاگتے رہنے کا عمل ٹھیک نہیں*
*چاند کے عشق میں بینائی چلی جاتی ہے*
*کچھ دنوں کے لیے منظر سے اگر ہٹ جاؤ*
*زندگی بھر کی شناسائی چلی جاتی ہے*
نہ تم حسن یوسف نہ میں مصر کا کوئی تاجر
یہ اپنی بے رخی کے دام_____ ذرا کم کیجئے!!

