آنسوؤں کی نذر
خواب سارے ہوگئے
ہم بےتکی سی چیز تھے پیچھے پڑے رہے
اک لمبے عرصہ سے کچھ نہ لکھ ہائی تھی
شاید میں محبوب کی جدائی سمجھ نہ پائی تھی
اف یہ سانس کس لیے ہے ابھی تک مجھ میں
میں نے اب تک محبت میں جان گنوائی نہ تھی
اب حال یو بےحال کر دیا خود کا
کل شب آئینہ میں
میں خود کو پہچان پائی نہ تھی
ایسے کون جاتا ہے۔۔۔۔
بہے آنسو جیسے
ہاتھ سے نکلی ریت جیسے
بخت سے چھینے تخت جیسے
بارش کی گری بوند جسے
ڈھلتے سورج،
کٹی درخت ،
خشک کسی پھول جیسے
کرچیاں کرچیاں کرچیاں
ہم تھے کہیں کی خاک
جہاں تھے وہیں پڑی رہے
ہویا کی قصور
تیرے جلوے پرائے ہوئے آج سے
پاس آنے کا ہر اک بہانہ ختم
یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا
ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا
don't be sad it's gone...be happy because it happened
اور سلجھی ہوئی باتیں
الجھے ہوئے خیالات
چل دل میرے۔۔۔
اے دل کسی کی یاد میں
ہوتا ہے بے قرار کیوں
لکھ سمجھاؤں ۔۔۔۔
😶😶😶😶😶😶
عشق اگر خاک نہ کر دے ۔۔۔۔۔
تو خاک عشق ہوا
دل کا گھروںدہ خالی سا ہے۔۔۔۔
الفتوں، خوشیوں ،محبت کی رخصتی جو ہوئی
haaal faqeeeraaan
kesy krun bayan Hal e Dil....
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain