گر ہوں منصور تو سولی پہ چڑھا دے مجھ کو
اور ہوں سقراط تو لا زہر پلا دے مجھ کو
وصل کا گل نہ سہی ہجر کا کانٹا ہی سہی
کچھ نہ کچھ تو مری وحشت کا صلہ دے مجھ کو
کب تلک اور جلوں آگ میں تنہائی کی
زندگی اب یہی بہتر ہے بجھا دے مجھ کو
تھرتھراتی ہوئی پلکوں پہ سجانے والے
اشک بے کار کی مانند گرا دے مجھ کو
تیرے لیے چلے تھے ہم تیرے لیے ٹھہر گئے
تو نے کہا تو جی اٹھے تو نے کہا تو مر گئے
کٹ ہی گئی جدائی بھی کب یہ ہوا کہ مر گئے
تیرے بھی دن گزر گئے میرے بھی دن گزر گئے
تو بھی کچھ اور اور ہے ہم بھی کچھ اور اور ہیں
جانے وہ تو کدھر گیا جانے وہ ہم کدھر گئے
راہوں میں ہی ملے تھے ہم راہیں نصیب بن گئیں
وہ بھی نہ اپنے گھر گیا ہم بھی نہ اپنے گھر گئے
وقت ہی جدائی کا اتنا طویل ہو گیا
دل میں ترے وصال کے جتنے تھے زخم بھر گئے
ہوتا رہا مقابلہ پانی کا اور پیاس کا
صحرا امڈ امڈ پڑے دریا بپھر بپھر گئے
وہ بھی غبار خواب تھا ہم بھی غبار خواب تھے
وہ بھی کہیں بکھر گیا ہم بھی کہیں بکھر گئے
کوئی کنار آب جو بیٹھا ہوا ہے سرنگوں
کشتی کدھر چلی گئی جانے کدھر بھنور گئے
بارش وصل وہ ہوئی سارا غبار دھل گیا
وہ بھی نکھر نکھر گیا ہم بھی نکھر نکھر گئے
صحرا جو پُکاریں بھی تو سُن کر نہیں آتے
اب اہلِ جُنوں شہر سے باہر نہیں آتے
وہ کال پڑا ہے تجارت گاہِ دل میں
دستاریں تو میسر ہیں مگر سَر نہیں آتے
وہ لوگ ہی قدموں سے زمیں چھین رہے ہیں
جو لوگ میرے قد کے بھی برابر نہیں آتے
اِک تم کہ تمہارے لیے میں بھی ؛ میری جان بھی
اِک میں کہ مجھے تم بھی میسر نہیں آتے
اِس شان سے لوٹے ہیں گنوا کر دل و جان ہم
اِس طَور تو ہارے ہوئے لشکر نہیں آتے
کوئی تو خبر لے میرے دشمنِ جان کی
کچھ دن سے میرے صحن میں پتھر نہیں آتے
دل بھی کوئی آسیب کی نگری ہے کہ”محسن”
جو اِس سے نکل جاتے ہیں مُڑ کر نہیں آتے
اگر یہ کہہ دو بغیر میرے نہیں گزارہ، تو میں تمہارا
یا اس پہ مبنی کوئی تاثر کوئی اشارا، تو میں تمہارا
غرور پرور، انا کا مالک، کچھ اس طرح کے ہیں نام میرے
مگر قسم سے جو تم نے اک نام بھی پکارا ، تو میں تمہارا
تم اپنی شرطوں پہ کھیل کھیلو، میں جیسے چاہے لگاؤں بازی
اگر میں جیتا تو تم ہو میرے، اگر میں ہارا ، تو میں تمہارا
تمہارا عاشق، تمہارا مخلص، تمہارا ساتھی، تمہارا اپنا
رہا نہ ان میں سے کوئی دنیا میں جب تمہارا ، تو میں تمہارا
تمہارا ہونے کے فیصلے کو میں اپنی قسمت پہ چھوڑتا ہوں
اگر مقدر کا کوئی ٹوٹاکبھی ستارا تو میں تمہارا
یہ کس پہ تعویز کر رہے ہو؟یہ کس کو پانے کے ہیں وظیفے؟
تمام چھوڑو بس ایک کر لو جو استخارہ ، تو میں تمہارا
مشکل دن بھی آئے لیکن فرق نہ آیا یاری میں
ہم نے پوری جان لگائی اس کی تابعداری میں
بے ایمانی کرتے تو پھر شاید جیت کے آجاتے
چاہے ہار کے واپس آئے کھیلے اپنی باری میں
میٹھے میٹھے ہونٹ ہلائے کڑوی کڑوی باتیں کی
کیکر اور گلاب لگایا اس نے ایک کیاری میں
تیری جانب اٹھنے والی آنکھوں کا رخ موڑ لیا
ہم نے اپنے عیب دکھائے تیری پردہ داری میں
جانے اب وہ کس کے ساتھ نکلتا ہوگا راتوں کو
جانے کون لگاتا ہوگا دو گھنٹے تیاری میں
رستہ رفتار کی مایوسی سے اٹ جاتا تھا
جب میں چپ چاپ تجھے مل کے پلٹ جاتا تھا
تھک کے مرتے ہوئے لوگوں کو میں روتا تھا بہت
ہر پڑاؤ پہ مرا قافلہ گھٹ جاتا تھا
کیا کشش تھی کہ مجھے چھوڑ کے جانے والا
دو قدم چلتا تھا پھر مجھ سے لپٹ جاتا تھا
چاند کی چاندنی شرما کے نکل جاتی تھی
شب کا سورج میرے ہاتھوں میں سمٹ جاتا تھا
شب خسارے کے حسابوں میں گزر جاتی تھی
دن ترے شہر کی دہلیز پہ کٹ جاتا تھا
تیرے آنسو مجھے برچھی کی طرح لگتے تھے
دیکھتے دیکھتے اندر سے میں کٹ جاتا تھا
یار لوگوں کے توسط سے وہ اب غائب ہے
ایک پتھر جو مری راہ سے ہٹ جاتا تھا..
اس قدر آپ پر فدا ہوں میں
آپ بس آپ سے خفا ہوں میں
سوچتا ہوں ترے ہی بارے میں
خود غرض کتنا ہو گیا ہوں میں
آپ کا دل ہی بھر گیا ورنہ
اب تلک قابلِ سزا ہوں میں
تیسرا میں ہی تھا مثلث میں
میں سمجھتا تھا دوسرا ہوں میں
سب مسائل ہی آگہی کے ہیں
کیا میں سمجھا تھا اور کیا ہوں میں
اب ضرورت ہے کیا دلیلوں کی
آپ نے کہہ دیا , برا ہوں میں
آپ کو روشنی سے مطلب ہے
آپ کو کیا کہ جل رہا ہوں میں
جو بھی آتا ہے اس سے کہتا ہوں
تجھ سے ملنے گیا ہؤا ہوں میں
مانگتے ہی نہیں مری رائے
سب سمجھتے ہیں مر گیا ہوں میں
شعر ابرک اسی کو کہتے ہیں
منہ سے جو خود کہے نیا ہوں میں
کسی کو عشق ہوا کسی کو پیار ہوا 😍
مجھے تو جب بھی ہوا بس بخار ہوا 🤒🤕
تجھے خرید لوں گا تیرے نخرے سمیت
بس میری کمیٹی نکلنے دے۔😁😁
میرے محبوب نے وعدہ کیا ہے پانچویں دن کا
کسی سے سُن لیا ہو گا کہ دنیا چار دن کی ہے
تجھے 🧑دیکتھے ہی کر دی رب سے یہ آرزو🤗
آل تو جلال تو آی بلا کو ٹال تو
آ تیرے ہاتھوں کی انگلیاں دبا دوں
تھک گئی ہونگی مجھے نچا نچا کر
بھولنے والی بھول ہی جاتی ہے
چاہے آپ نے جتنا مرضی لوڈ کروایا ہو 😋😃😃😃😃😄😄😄
ساری بات عزت کی ہوتی ہے صاحب ورنہ
آج روڈ پہ پڑا دس کا نوٹ بلکل اصلی تھا
😂😜
میں کیسے سناوں تمہیں اپنے دل کی داستاں
میرے پاس تو تمہارا نمبر ہی نہیں
وہ اک بار مجھے دل میں تو آنے دیتا
میں اُسے شام نہیں دیتا، زمانے دیتا
۔
آپ کے غم پے بڑا کام کیا ہے میں نے
اب میں روتا ہوں تو آنسو نہیں آنے دیتا
وہ اک بار مجھے دل میں تو آنے دیتا
میں اُسے شام نہیں دیتا، زمانے دیتا
۔
آپ کے غم پے بڑا کام کیا ہے میں نے
اب میں روتا ہوں تو آنسو نہیں آنے دیتا
مجھے الہام ہوتا تھا
میرا وجدان کہتا تھا
وہ چھٹی حس جو ہوتی ہے
مجھے اکثر بتاتی تھی
تمہارے خواب اونچے ہیں
میرےتم ہونہیں سکتے.
جانتے هو كب ايجاد هوئے تهے قہقہے...
جب ضبط ٹوٹا تها ، كسى ديوانے كا.....
وہ مجھے دیکھنے میرے قریب آیا ہے
یہ دُھند سارے مہینوں میں کیوں نہیں پڑتی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain