جب بھی تیری قربت کے کچھ امکاں نظر آئے
ہم خوش ہوئے اتنے کہ پریشاں نظر آئے
دل کی ویرانی دیکھ کر کون یہ سمجھے گا
اس جگہ بھی ٹھہرے تھے کبھی قافلے محبت کے
اداس شام اداس وقت اداس زندگی اداس موسم
کتنی چیزوں پر الزام لگ جاتا ہے دل کے اداس ہونے پہ
خوشی کی بات مت کرو صاحب
وہ بچپن والا اتوار اب نہیں آتا
جو تم نے کبهی کی ہی نہیں
مجھے وہ محبت اداس رکھتی ہے
عجیب ہے میرا اکیلا پن بھی
نہ خوش ہوں نہ اداس ہوں
بس خالی ہوں اور خاموش ہوں
😔🍂
ہزاروں منزلیں ہونگی ہزاروں کارواں ہونگے
نگاہیں ہم کو ڈھونڈنیں گی نہ جانے ہم کہاں ہونگے
میری لکھی بات کو ہر کوئی سمجھ نہیں پاتا
کیونکہ میں احساس لکھتا ہوں اور لوگ الفاظ پڑھتے ہیں
ٹوٹ جاتا ہے واسطہ خود سے
تجھ سے جب رابطہ نہیں ہوتا خدا کی قسم 🙉🙉🙉🙉🙉تو بے وفا ہے صنم تو بےوفا ہیں صنم
کبھی تم خود بھی آ دیکھو یہ منظر شام سے پہلے
یہ لب کیسے لرزتے ہیں تمہارے نام سے پہلے
وہ اتفاق سے مل جائے راستے میں کہیں
مجھے یہ شوق مسلسل سفر میں رکھتا ہے
اس طرح غور سے مت دیکھ میرے ہاتھ کو
ان لکیروں میں حسرتوں کے سوا کچھ بھی نہیں
تیری تلاش میں میرا وجود ہی نہ رہا
تباہ کر گئی میری ہستی کو آرزو تیری
کیا بات ہے چپ چاپ بیٹھے ہو
کوئی بات دل پے لگی ہے یا دل لگا بیٹھے ہو
اداس تھے وہ پرندے بھی جو کل شام کو لوٹے تیرے شہر سے
شاید ان کو بھی منزل نہ ملی ہم بدنصیبوں کی طرح
کیا پانی پہ لکھی تھی میری تقدیر میرے مالک
ہر خواب بہہ جاتا ہے میرے رنگ بھرنے سے پہلے
تیز رفتار ہواؤں کو یہ احساس کہاں
شاخ سے ٹوٹے گا پتا تو کدھر جائے گا
دنیا دھندلی ہو جاتی ہے صاحب
جب خواب آنکھوں میں رہ جائیں
جسے ڈر ہی نہ تھا میرے کھونے کا
بھلا اسے کیا فرق پڑے گا میرے نہ ہونے کا
اس کو بولو اک خیرات کرے مجھ پہ
اس کو بولو نا بات کرے مجھ سے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain