انا بضد ہے التجا کیا کرنی
وہ محبت ہی کیا جو منتوں سے ملے
دنیا سے نرالی ہے اپنی کہانی
انگاروں سے بچ نکلا ہوں پھولوں سے جلا ہوں
سجنے سنوارنے کی تمھیں کیا ضرورت ہے
قیامت ڈھانے کے لیے تمہاری سادگی ہی کافی ہے
ایک شام اور ڈھل گئی
ایک دن اور جی لئے تیرے بغیر اب نہیں جیا جاتا
پیار پیسوں سے کرو گے تو تنہائی تمہارا مقدر ہوگی۔
انسانوں سے کرو گے تو اللہ کو پاؤ گے۔
دنیا سے نرالی ہے اپنی کہانی
انگاروں سے بچ نکلا ہوں پھولوں سے جلا ہوں
Good night freind Allah hafiz bye T .c
حالات کر دیتے ہیں بھٹکنے پر مجبور۔
گھر سے نکلا ہوا ہر شخص آوارہ نہیی ہوتا۔
گناہگار تو شاید مانگ لیں معافی
حساب مشکل ہوگا پارساوں کا
تو اپنی بارگاہ میں مجھ کو بلند رکھ
دنیا گرائے نظروں سے یا آسمان سے
سب روتے ہیں اپنی اپنی خطا کے لئے
کون روتا ہے یہاں خدا کے لئے
.موتی تو نہیں تھے کوئی پلکوں سے جو چُنتا
ہم آنکھ سے ٹپکے ہوئے آنسو کی طرح تھے
آنکھوں میں پانی لیئے مجھے گھورتا ہی رہا
وہ آئینے میں کھڑا شخص پریشاں بہت تھا
سچے پیار میں نکلے آنسو اور روتے ہوئے بچے کے آنسو ایک جیسے ہوتے ہیں کیونکہ دونوں کو پتا تو ہے کہ درد کیا ہے پر کسی کو بتا نہیی سکتے۔
مجھے بدنام کرنے کے بہانے ڈھونڈتے ہو کیوں
میں خود ہو جاؤ گا بدنام پہلے نام ہونے دو
کر دیا تو نے زمانے میں ہم کو بدنام
کیا تجھے اس کے بغیر تھا نہ کوئی کام
کتنا بھروسہ تھا ہم کو تجھ پہ اے یار
نکلے گا تیری اس بات کا بہت برا انجام
میرے ساتھ وہ رہے گا تو زمانہ کیا کہے گا
میری اک یہی تمنا اسے اک یہی بہانہ
میں وہ بدنام محبت ہوں جدھر جاوں زمانے میں
نگاہیں خلق کی اٹھتی ہے مجھ پر انگلیاں بن کر
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain