عشق تھا تم سے کر لیا
فریب ہوتا تو سب سے کرتے
جب سے اسے عزیز ہوئی مری زندگی۔۔۔۔
میں اپنی زندگی کی دعا مانگنے لگی۔۔۔
اسے دیکھا نہیں کٸ دنوں سے
ڈر ہے کہیں آنکھیں بیکار نا ہوجائیں
عاشقوں کو جائز نہیں کفن دفن
مریں تو یار کے در پہ پھینک آؤ
نہ جانے میرے دل کو کیا ہوا ہے
تم ہی سے خفاء ہے تم ہی پے فدا ہے
دیکھنے کے لئیے سارا عالم بھی کم
چاہنے کے لئیے ایک چہرہ بہت
تیرے عشق میں یوں دیوانے ہو گۓ
ساری دنیا سے ہم بیگانے ہو گۓ
کل تک جس مجلس میں گمنام تھے
آج وہیں شروع ہمارے فسانے ہو گۓ
سوچا تھا اس قدر بھول جائیں ان کو
دیکھ کربھی ان دیکھاکر جائیں گے ان کو
لیکن جب سامنےآیا ان کا چہرہ
سوچا اس بار دیکھ لیں اگلی بار سے بھول جائیں گے
محسوس بھی تمہیں نہیں ہونے دوں گا اتنا دور چلا جاؤں گا
میرے عشق کی توہینِ ہے تیری آنکھ میں آنسوں آئیں
ہم حالات کے بدلنے سے یار نہیں بدلتے
یار کے کہنے پر حالات بدل دیتے ہیں
ان سے پوچھ کر آنا ان کے دیدار کی قیمت
اگر وہ جان مانگیں تو سودا منظور کر آنا
میں نے مانگا ہی نہیں بدلہ اپنی چاہت کا
میں چاہتا تھا میرا عشق ہو بلا مشروط
کوئی مرہم نہیں چاہیئے زخم مٹانے کے لیے
تیری جھلک ہی کافی ہیں میرے ٹھیک ہوجانے کے لئے
زمانہ کہتا ہے بڑی دلکش ہیں میری آنکھیں۔۔۔
انھیں کیا معلوم کوٸی خاص بسا ہے ان میں۔۔۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain