تیری محبت کی حفا ظت کچھ اس طرح کی ہم نے
جب کبھی کسی نے پیا ر سے دیکھا نظریں جھکا لی ہم نے۔
عشق ہو ، وقت ہو ،کا غذ ہو ،قلم ہو
تیری ذات ہو ،تیرا نام ہو ،اور بس میرے لفظ۔
یقین تھا کہ کوئی سانحہ گزرنا ہے
گمان نہ تھا کہ تیرا ساتھ چھوٹ جائے گا
قبول جرم کرتے ہیں صاحب تیرے قدموں میں گر کر
سزاۓ موت ہے منظور پر صاحب تیری جداٸی نہیں
کیسے ہوتے ہیں بچھڑنے والے
ہم یہ سوچیں بھی تو ڈر جاتے ہیں
اس کی دوری نے چھین لی ہنسی مجھ سے
اور لوگ کہتے ہیں بہت سدھر گیا ہوں میں
بس یونہی چھوڑ دیا اس نے مجھے
ہائےاس نے مجھے آزمایا بھی نہیں
ہزاروں کا ہجوم ہے دل کے آس پاس
دل پھر بھی دھڑکتا ہے ایک ہی نام سے
اترتا نہیں موت سے پہلے
عشق ایسا بخار ہے سائیں
محبت اور موت کی پسند تو دیکھو
ایک کو دل چاہیے دوسرے کو دھڑکن
بڑی بھیانک ہوتی ہیں عشق کی سزائیں
بندہ پل پل مرتا ہے مگر موت نہیں آتی
سمجھ کرمال غنیمت مجھ کو
اس کی یادوں نے بے پناہ لوٹا
میرے سکون کی ابتدا سے لیکر
میری اذیت کی آخری حد ہو تم
اگر تیرا سوال ہوتا کہ سکون کیا ہے
ہم مسکرا کہ تیرے دل پہ سر رکھ دیتے
میرےہونٹوں پہ کسی لمس کی خواہش ہےشدید ایسا کچھ کر مجھے سگریٹ کو جلانا نہ پڑے
اس کی آواز سن لوں تو مل جاتا ہے سکون دل کو دیکھو تو سہی میرے درد کا علاج کیسا ہے۔
وہ مسکراتی ہے تو مل جاتا ہے مجھے سکون
وہ شخص میرا انتخاب ہے اسے کوئی اداس نا کرے
سکون ملتا ہے شاعری میں بات کرکے صاحب
سب کچھ کہہ بھی دیتا ہوں اور آواز بھی نہیں ہوتی
I am back friends how are you??
بس اتنا یاد کہ مجھے عشق ہوا تھا
پھر کیا ہوا اس کی مجھے خبر نہیں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain