تم تو کہتے تھے ہم لازمی ہیں صنم
خواب والی ہر اک رات کے واسطے
منتیں ،منتیں، کیا نہ کرتے تھے تم
ہم سے بس اک ملاقات کے واسطے
یہ کہانی مگر تب کی ہے
جب ہم ہوئے تم کو حاصل نہیں تھے
آ ج تم کو پتہ یہ چلا ہے
ہم محبت کے قابل نہیں تھے
عشق واجب تھا ہم پر جو ہم نے کر ڈالا
وفا فرض ہے ان پے دیکھیے کیا کرتے ہیں
محبتوں کے لحد میں اتار دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
کچھ لوگ دعائیں دے کر بھی مار دیتے ہیں
کتنے دل تھے جو ہو گئے پتھر
کتنے پتھر تھے جو صنم ٹھرے
ہر شخص تو فریب نہیں دیتا
مگر اب اعتبار زیب نہیں دیتا
۔۔۔۔ بدلے ہیں انداز انکے
کچھ اس انداز سے۔۔۔۔
کہ اب وہ بڑے انداز سے
۔۔۔۔نظر انداز کرتے ہیں
تمہارے بعد کا تو خیر کیا کہیں
تمہارے ساتھ بھی بہت دکھا ہے دل
سنا ہے عشق کا شوق نہیں تم کو
مگر برباد تم کمال کا کرتے ہو ۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain