```پیاس لگی تھی غضب کی ... مگر پانی میں زہر تھا پیتے تو مر جاتے اور نہ پیتے تو بھی مر جاتے بس یہی دو مسئلے، زندگی بھر نہ حل ہوئے !!! نہ نیند پوری ہوئی، نہ خواب مکمل ہوئے !!! وقت نے کہا ..... کاش تھوڑا سا صبر ہوتا !!! صبر نے کہا .... کاش تھوڑا سا وقت ہوتا !!! صبح صبح اٹھنا پڑتا ہے کمانے کے لئے صاحب ..... آرام کمانے نکلتا ہوں آرام چھوڑ کر .. "ہنر" سڑکوں پر تماشا کرتا ہے اور "قسمت" محلات میں راج کرتی ہے !! عجیب سوداگر ہے یہ وقت بھی !!!! جوانی کا لالچ دے کے بچپن لے گیا .... اب امیری کا لالچ دے کے جوانی لے جائیگا ...... لوٹ آتا ہوں واپس گھر کی طرف ... ہر روز تھکا ہارا، آج تک سمجھ نہیں آیا کہ جینے کے لئے کام کرتا ہوں یا کام کرنے کے لئے جیتا ہوں۔ "تھک گیا ہوں تیری نوکری سے اے زندگی مناسب ہوگا میرا حساب کر دے
*شریک حیات ____❗️* خوبصورت لڑکی سے شادی کر کے آپ گھر میں ڈیکوریشن پیس تو لا سکتے ہیں ہیں لیکن گھر بسا نہیں سکتے، شریک حیات کا نیک سیرت دین دار باپردہ حیا دار ہونا لازمی ہے* ✌🏻
تیرے ہونٹوں پہ مکڑی کے جالوں کے جمنے کا دکھ تو بحرحال مجھ کو ہمیشہ رہے گا تو نے چپ ہی اگر سادهنی تهی تو اظہار ہی کیوں کیا تها؟ یہ تو ایسے ہے بچپن میں جیسے کہیں کهیلتے کهیلتے کوئی کسی کو سٹیچو کہے اور پهر عمر بهر اس کو مڑ کر نہ دیکهے 😰✌🏻
اس شان سے وصل کی ہے خواہش ایسا موقع بھی اے خدا ہو بوسہ جو لیا جھچک کےبولے دیکھو نہ کوئی دیکھتا ہو دو دو ساغر ہوں دو دو شیشے دُہرا دُہرا ہر ایک مزا ہو بہکی بہکی ہوں اُس کی باتیں ساقی ساقی پکارتا ہو بوسہ بوسہ میں مانگتا ہوں اچھا اچھا وہ کہہ رہا ہو سینہ سینے سے گال سے گال زانو زانو تلے دبا ہو نکھری نکھری ہو ساری محفل ٹھنڈی ٹھنڈی وہاں ہوا ہو مَسکی مَسکی ہو اس کی انگیا شرما شرما کے ڈھانکتا ہو اُجلی اُجلی چاندنی میں گورا گورا بدن کھلا ہو لپٹا لپٹا لوں اس کو جوہرؔ بس بس وہ کہہ رہا ہو....