Rights of the neighbors Edit
“ Gabriel kept on recommending me about treating the neighbors in a kind and polite manner, so much so that I thought that he would order me to make them my heirs. ”
— Muhammad, 'Sahih al-Bukhari, 8:73:44
It is not righteousness that ye turn your faces towards East or West; but it is righteousness to believe in Allah and the Last Day, and the Angels, and the Book and the Messengers; to spend of your substance, out of love for Him, for your kin, for orphans, for the needy, for the wayfarer, for those who ask, and for the ransom of slaves; to be steadfast in prayer, and practice regular charity, to fulfill the contracts which we have made; and to be firm and patient, in pain (or suffering) and adversity, and throughout all periods of panic. Such are the people of truth, the God fearing (Quran 2:177).
In Islamic tradition, the idea of social welfare has been presented as one of its principal values,[1][2][3] and the practice of social service at its various forms has been instructed and encouraged. A Muslim's religious life remains incomplete if not attended by service to humanity.[1] The following verse of the Quran is often cited to encapsulate the Islamic idea of social welfare:[4]
Islamic teachings on humanity and human welfare have been codified in its central religious book known as the Quran, which the Muslims believe was revealed by God for the mankind. These teachings have often been exemplified by Islamic prophet Muhammad as displayed in his sayings and practices. To the Muslims, Islam is what the Quran has instructed to do and how Muhammad has put them into practice.
Happy birthday dear dia
May Allah bless you
Stay happy
May u live long 🎆🎆🎆🎆
Happy birthday again 🎂🎁
ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ ﮐﯽ ﺻﺒﺮﻭﻗﻨﺎﻋﺖ ﺍﻭﺭ ﺗﻮﮐﻞ ﮐﯽ ﺷﺎﻥ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ
ﺗﻤﺎﻡ ﺩﺭﻭﯾﺶ ﺣﯿﺮﺕ ﺯﺩﮦ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ۔۔
ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ ﻧﮯﺩﺭﻭﯾﺸﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮐﺮﺗﮯﮨﻮﺋﮯﻓﺮﻣﺎﯾﺎ۔”ﺣﻖ
ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻓﺮﻣﺎﺗﺎ ﮨﮯﮐﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮐﮯﺑﺪﻟﮯﺩﺱ ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﺘﺮ
ﺩﻭﮞ ﮔﺎ۔ ﺑﺲ ﺍﺳﯽ ﺣﺴﺎﺏ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﭘﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯﺩﻭ ﺁﺩﻣﯿﻮﮞ ﮐﻮ
ﻭﺍﭘﺲ ﻟﻮﭨﺎ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ
ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺍﻟﯽ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭨﯽ ﺩﮮﮐﺮ ﺭﺯﺍﻕ ﻋﺎﻟﻢ ﺳﮯﺳﻮﺩﺍ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺩﻭ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭﺩﻭﺳﺮﺍ ﭘﺎﻧﭻ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﻟﮯﮐﺮ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺣﺴﺎﺏ ﺩﺭﺳﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﺗﯿﺴﺮﺍ ﺷﺨﺺ ﮔﯿﺎﺭﮦ
ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﻟﮯﮐﺮ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯﮐﺴﯽ ﺗﺮﺩﺩ ﮐﮯﺑﻐﯿﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ
ﮐﮧ ﯾﮧ ﻋﯿﻦ ﺣﺴﺎﺏ ﮐﮯﻣﻄﺎﺑﻖ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﻨﮯﻭﺍﻟﮯﮐﯽ ﺷﺎﻥ ﺭﺯﺍﻗﯽ ﮐﻮ
ﻇﺎﮨﺮ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺩﺱ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭨﯽ ﮐﮯﺑﺪﻟﮯﻣﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺭﻭﭨﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯﺳﻮﺍﻟﯽ ﮐﻮ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ ‘ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯﻭﮦ ﺑﮭﯽ
ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ۔ “
ﺗﯿﺴﺮﯼ ﺑﺎﺭ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺷﺨﺺ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻟﮯﮐﺮ ﺁﯾﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﺧﺎﺩﻣﮧ ﻧﮯﺁﭖ ﮐﻮ
ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ ﻧﮯﻣﺴﺮﺕ
ﮐﮯﻟﮩﺠﮯﻣﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ۔ ”ﮨﺎﮞ ! ﯾﮧ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﮨﯽ۔ ﺍﺳﮯﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮ ﻟﻮ۔ “
ﺧﺎﺩﻣﮧ ﻧﮯﮐﮭﺎﻧﺎ ﻻ ﮐﺮ ﺩﺭﻭﯾﺶ ﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯﺳﺎﻣﻨﮯﺳﺠﺎ ﺩﯾﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ
ﺩﺭﻭﯾﺶ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎ ﭼﮑﮯﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﻧﮯﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺗﯿﻦ ﻣﺨﺘﻠﻒ
ﺍﺷﺨﺎﺹ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻟﮯﮐﺮ ﺁﺋﯽ۔ ﺩﻭ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﻮ ﺁﭖ ﻧﮯﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﻣﮕﺮ
ﺗﯿﺴﺮﮮﺷﺨﺺ ﮐﮯﻻﺋﮯﮨﻮﺋﮯﮐﮭﺎﻧﮯﮐﻮ ﻗﺒﻮﻝ ﻓﺮﻣﺎ ﻟﯿﺎ۔ ﺁﺧﺮ ﯾﮧ ﮐﯿﺎﺭﺍﺯ
ﮨﯽ؟
ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺧﺎﺩﻣﮧ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ۔ ” ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ
ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻟﮯﮐﺮﺁﯾﺎ ﮨﮯ۔ “
”ﮐﺘﻨﯽ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ?“ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ ﻧﮯﺧﺎﺩﻣﮧ ﺳﮯﭘﻮﭼﮭﺎ۔
ﺟﺐ ﺧﺎﺩﻣﮧ ﻧﮯﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺩﻭ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﮯﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮ
ﺩﻭ۔ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﻏﻠﻄﯽ ﺳﮯﮨﻤﺎﺭﮮﮔﮭﺮ ﺁﮔﯿﺎ ﮨﮯﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻧﮩﯿﮟ
ﮨﯽ۔ “ ﺧﺎﺩﻣﮧ ﻧﮯﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ۔
ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺧﺎﺩﻣﮧ ﻧﮯﺍﻃﻼﻉ ﺩﯼ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺷﺨﺺ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻟﮯﮐﺮ
ﺁﯾﺎ ﮨﯽ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ ﻧﮯﺭﻭﭨﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﭘﻮﭼﮭﯽ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﻮ
ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﭘﺎﻧﭻ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﮨﯿﮟ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ ﻧﮯﺟﻮﺍﺑﺎً ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ۔
” ﺍﺱ ﺑﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻻﻧﮯﻭﺍﻟﮯﺳﮯﻏﻠﻄﯽ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔ ﺍﺱ ﺳﮯﮐﮩﮧ ﺩﻭ
ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯽ۔“
ﮧ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ ﮐﮯﯾﮩﺎﮞ ﭘﺎﻧﭻ
ﺩﺭﻭﯾﺶ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺋﮯ______________۔ ﺍﺗﻔﺎﻕ ﺳﮯﻭﮦ ﮐﮭﺎﻧﮯﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﺗﮭﺎ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ
ﺑﺼﺮﯼ ﻧﮯﺍﭘﻨﯽ ﺧﺎﺩﻣﮧ ﮐﻮ ﺍﻟﮓ ﺑﻼ ﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ۔ ”ﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻮﺍﺿﻊ
ﮐﯿﻠﺌﮯﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﺎﻧﮯﮐﻮ ﮨﯽ?“
ﺧﺎﺩﻣﮧ ﻧﮯﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭨﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯽ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ
ﻧﮯﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭨﯽ ﺳﮯﮐﯿﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ? ﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯﺣﺼﮯﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ
ﺍﯾﮏ ﭨﮑﮍﺍ ﮨﯽ ﺁﺋﮯﮔﺎ۔ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺁﭖ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﺩﺭﻭﯾﺸﻮﮞ ﮐﮯﭘﺎﺱ
ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯﺁﺋﯿﮟ۔
ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﮨﯽ ﺩﯾﺮ ﮔﺰﺭﯼ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺍﻟﯽ ﻧﮯﺩﺭ ﭘﺮ ﺻﺪﺍ ﺩﯼ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ ﻧﮯﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺭﻭﭨﯽ ﺍﺱ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻣﻨﺪ ﮐﻮ
ﺩﮮﺩﻭ ﺟﻮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮﮐﮯﺑﺎﮨﺮ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﯽ۔ ﺧﺎﺩﻣﮧ ﻧﮯﺁﭖ ﮐﮯﺣﮑﻢ ﮐﯽ
ﺗﻌﻤﯿﻞ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ ﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯﺳﺎﺗﮫ ﻣﺼﺮﻭﻑ
ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ۔
تاریخ گواہ ہے کہ وہ جسے کبھی دنیا جھاڑ جھنکار سمجھ رہی تھی بلال رضی اللہ عنہ کی جھولی میں آ کر اورمصطفٰے کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زبان مبارکہ کا صدقہ آج بھی کھجوروں کی سردار ہے۔
’’لوگو یہ کھجور ‘‘عجوہ‘‘ ہےیہ دل کے مرض کے لیئے شفاء ہے،یہ فالج کے لیئے شفاء ہے،یہ ستر امراض کے لیئے شفاء ہے،اور لوگو یہ کھجوروں کی سردار ہے،پھر یہ کہہ کر بس نہیں کیا بلکہ فرمایا جو اسے کھا لے اسے جادو سے امان ہے‘‘
منظر بدل گیا وہ بلال رضی اللہ عنہ جس کے پاس چند لمحے پہلے تک جھاڑ جھنکار تھا اور پریشان بیٹھا تھا اب رحمت اللعالمین ، نبی آخر الزمان ،رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اسے غنی کر دیا۔
پھر تاریخ بتاتی ہے راوی لکھتے ہیں کہ لوگ بلال کی منتیں کرتےاور پیچھے بھاگتے کہ ہمیں اور عجوہ کھجور دو اور بلال کسی مچلے ہوئے بچے کی مانند آگے آگے بھاگتے۔
اسی اثنا میں ایک آواز آئی
’’اے حبشی ؓ یہ کھجور تو تجھ جیسی کالی اور خشک ہے‘‘۔
دل کے آبگینے پر اک ٹھیس لگی اور آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے،
سیدنا بلال ؓ جو کہ یک حبشی غلام تھے کھجوریں جھولی میں ہی سمیٹ کر بیٹھ گئے۔ایسے میں وہاں سے اس کا گذر ہو جو ٹوٹے دلوں کا سہارا ہے جس نے مسکینوں کو عزت بخشی وہ جس کا نام غمزدہ دلوں کی تسکین ہے-
جی ہاں وہی محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم جو دو جہانوں کا سردار ہے۔آپ نے بلال رضی اللہ عنہ سے رونے کا سبب پوچھا تو سیدنا بلال ؓنے جھولی کھول کر سب ماجرہ کہہ سنایا۔رحمت اللعالمین ﷺ نے بازار کی جانب رخ انور موڑا اور آواز لگائی
عجوہ کھجور
کھجوروں کی سردار کیسے بنی ؟
ایک حبشی جس کی ناک موٹی، آنکھیں چھوٹی ، رنگت سیاہ، چلتا تو لنگڑاہٹ نمایاں نظر آتی تھی بولتا تو زبان میں لکنت غلام ابن غلام۔
ایک باغ کے جھاڑ جھنکار سے کھجوریں چننے میں مصروف تھا، یہ کھجوریں نرم نہ تھیں اور ذائقہ میں بھی باقی کھجوروں سے مختلف۔جبکہ رنگ گہرا اور دانہ بہت چھوٹا سا۔جھولی میں آئی کھجوریں اس باغ کا آخری پھل تھا-وہ شہر میں انہیں فروخت کرنے کا ارادہ رکھتا تھا تاکہ کچھ پیسے جمع ہو سکیں مگر کوئی ان کھجوروں کا طلبگار نہ تھا۔
وبا نے عالمی سطح پر معاشرتی اور معاشی صورت حال کو سخت مضطرب کر رکھا ہے،[22] ضروری اشیا کی قلت کے خوف سے خریدار بدحواس ہیں[23][24] اور دیہاڑی مزدوروں کی روزی چھن چکی ہے۔ علاوہ ازیں وائرس کے متعلق سازشی نظریوں اور گمراہ کن معلومات کی آن لائن اشاعت زوروں پر ہے،[25][26] اور ان سب کی بنا پر چینی اور مشرقی ایشیائی قوموں کے خلاف تعصب اور نفرت کے جذبات پرورش پا رہے ہیں۔[27]
کورونا وائرس کی وبا کی مزید روک تھام کے لیے اسفار پر پابندی، قرنطینہ، کرفیو، تالابندی، اجتماعات اور تقریبوں کا التوا یا منسوخی، عبادت گاہوں اور سیاحتی مقامات کو مقفل کر دینے جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کوششوں میں ہوبئی کا قرنطینہ، اطالیہ اور یورپ کے تمام علاقوں کی مکمل تالا بندی، چین اور جنوبی کوریا میں کرفیو،[15][16][17] سرحدوں کی بندش،[18][19] ہوائی اڈوں اور ریلوے اسٹیشنوں پر سخت جانچ[20] قابل ذکر ہیں۔ 124 سے زائد ملکوں میں اسکولوں اور جامعات کو بھی بند کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے 120 کروڑ طلبہ کی تعلیم متاثر ہوئی ہے۔[21]
مرض شدت اختیار کر جائے تو مریض کو نمونیا اور سانس لینے میں خطرناک حد تک دشواری جیسے امراض لاحق ہو جاتے ہیں۔[13] اب تک اس مرض کی کوئی ویکسین ایجاد ہوئی ہے اور نہ وائرس کش علاج دریافت ہو سکا ہے۔[8] اطبا مریض میں ظاہر ہونے والی علامتوں کو دیکھ کر ابتدائی علاج تجویز کرتے ہیں۔[14] وبا سے بچاؤ کے لیے ہاتھوں کو بار بار دھونے، کھانستے وقت منہ کو ڈھانپنے، دوسروں سے فاصلہ رکھنے اور مکمل علاحدہ رہنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔[8] نیز جو افراد مشکوک ہیں انہیں 14 دن تک گھریلو قرنطینہ میں رکھنا ضروری خیال کیا جاتا ہے۔
کووڈ-19 کا یہ وائرس خصوصاً کھانسی یا چھینک کے دوران میں ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہوتا ہے۔[7][8][9] عموماً کسی شخص کو یہ وائرس اس وقت لاحق ہوتا ہے جب وہ کسی متاثرہ شخص کے انتہائی قریب رہے لیکن اگر مریض کسی چیز کو چھوتا ہے اور بعد ازاں کسی شخص نے اسے چھو کر اپنے چہرے کو ہاتھ لگا لیا تو یہ وائرس اس کے اندر بھی منتقل ہو جائے گا۔[8][10] اس بیماری کے پھیلنے کا خطرہ اس وقت اور بھی بڑھ جاتا ہے جب کسی شخص میں اس کی علامتیں ظاہر ہو جائیں۔[10] کسی متاثرہ شخص میں اس مرض کی علامتیں ظاہر ہونے کے لیے دو سے چودہ دن لگتے ہیں۔[11][12] عمومی علامتوں میں بخار، کھانسی اور نظام تنفس کی تکلیف قابل ذکر ہیں۔[11
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain