اردو زبان دنیا کی واحد زبان ہے جس میں ہر تلفظ مل جاتا ہے۔ کسی زبان میں ٹ، پ، گ نہیں ہے تو کسی میں ڈ، ڑ اور گھ، بھ وغیرہ نہیں ہے۔ یہی نہیں، اس زبان کا ایک کمال یہ ہے کہ ہر رشتے کے لیے الگ لفظ، الگ پہچان۔ اور جانوروں کے بچوں تک کے لیے الگ الفاظ، کہ سنتے ہی پتا چل جائے کہ کس جانور کا ذکر ہے۔ عربی یقیناًبہت وسیع اور فصیح زبان ہے لیکن اس میں بھی رشتوں کے لیے الگ الگ الفاظ نہیں ہیں۔ مثلاً باپ کا ہر بھائی عم ہے، جب کہ اردو میں چچا، تایا ہیں۔ اور زیادہ ہوں تو بڑے تایا، بڑے ابو وغیرہ، ایسے ہی پھوپھی، چچی، خالو، ماموں وغیرہ۔ معروف صحافی آغا شورش کاشمیری مرحوم کی ایک پرانی تحریر ہے جس میں انہوں نے جانوروں کے بچوں کے لیے مختص الفاظ کی نشاندہی کی ہے مثلاً ’’بکری کا بچہ: میمنا۔ بھیڑ کا بچہ: برّہ۔ ہاتھی کا بچہ: پاٹھا۔ اُلّو کا بچہ: پٹھا
میں نے انگریزی سے پوچھا باجی انگریزی کیا بات ہے آج کل تجھے بولنے والے کو لوگ پڑھا لکھا کہتے ہیں ؟؟؟ کہنے لگی 4ٹینس ،دو نیگیٹو انٹیروگیٹو ایکٹو وائس اور پاسوائز پڑھ کر اگر کوئی پڑھا لکھا کہلوا سکتا ہے تو اسے اردو کی لمبی گرامر فارسی کے مشکل الفاظ اور عربی کی صرف نحو بلاغت منطق پڑھ کر جاھل لگنے کی کیا ضرورت ؟؟؟ میں نے کہا ہماری اردو اتنی پیاری ہے کہ ہر رشتے کا الگ نام ہے لیکن تو تو اتنی کنجوس ہے کہ چاچے کا بیٹا بھی کزن ماموں، خالو، تائے،پھوپھا سب کے بیٹے کزن ہی ہیں ؟؟؟ بولی ظاھر ہے جاھلوں کی زبان جو ہوں پلے کنجوسی ہی تو ہونی ہے