کہ کوئی آپ کی تکلیف کا اندازہ نا لگا سکے اس لیے چھوڑ دیں شکوہ، غصہ، مان ، ناراضگی بس سنیں۔ اور دیکھیں لوگوں کے چہرے کتنے بدلتے ہیں اج کے اس دنیا میں درد سمٹا کم اور اس درد کو مزاق ذیادہ بنایا جاتا انسان کی قدر اور اسکی دکھ درد اسکے احساسات انکی باتیں تب ہمیں یاد اتی ہیں جب وہ ہمیں سے دور ہمشہ ہمشہ کیلیے جاتا ہے مگر کیا کرنا ہےتب پچھتانے سے وہ انسان واپس تو نہیں ایگا ۔
شکوہ کرنے سے کیا ہوتا ھے کچھ نہیـں، غصہ کرنے سے کیا ہوتا ھے کچھ نہیں ، رونے سے کیا ہوتا ھے کچھ نہیں ، ناراض ہونے سے کیا ہوتا ھے کچھ نہیں ، مان ٹوٹنے سے کیا ہوتا ھے کچھ نہیں ان سب باتوں کا وہاں فرق پڑھتا جہاں سامنے والے بھی اپ کوسمجھتے ہوں خیر سب چھوڑ دیں جو جیسا ھے ویسا بن کر رہیں اپنا درد نا بتائیں کونسا کم ہو جائے گا آپ کو بخار ھے تو بتانے سے کم تو نہیں ہو گا سامنے والا بیزار ہو جائے گاآپ کہہ دو آپ غمگین ہیں سامنے والا مصروف ہو جائے گا یا نیند آجائے گی تو آپ کا مان ٹوٹا الگ اور خود کو گھنٹوں کوسنا الگ آپ کی تکلیف آپ کی اپنی ھے کوئی ساتھ نہیں دیتا سب کہنے کی باتیں ہیں میں نے سب دیکھا ھے کوئی پرواہ نہیں کرتا سب کو آپ ہنستے ہوئے پسند ہو تو سب کے سامنے مضبوط ہو کر رہو کہ کوئی آپ کی تکلیف کا اندازہ نا لگا سکے اس لیے چھوڑ دیں شکوہ،