غیر کی باتوں کا اسے، آخر اعتبار آ ھی گیا ، میری جانب سے ، دل میں ، غبار آ ھی گیا ،، جانتا تھا کہ کھا رھا ھے ، بیوفاء جھوٹی قسم ، سادگی دیکھو کہ پھر بھی ، اعتبار آ ھی گیا ،، تو نہیں جو آیا ،وفاء دشمن ، تو کیا ھم مر گئے، چند دن تڑپا کیئے ھم ، آخر قرار آ ھی گیا ،، یہ دل میں تھا اے حشر ، ان سے نہ بولیں گے کبھی، وھ بیوفاء جب سامنے آیا، تو پیار آ ھی گیا ،،