غم حیات غم دل نشاط جاں گزرا تمہارے ساتھ ہر اک لمحہ شادماں گزرا تڑپ کے درد سے فریاد کو جو لب کھولے ستم شعار زمانے پہ یہ گراں گزرا بدل دے رخ جو مری زندگی کے دھاروں کا وہ حادثہ مرے دل پر ابھی کہاں گزرا جواب طور و تجلی کہیں گے اہل نظر جو دل کی راہ سے وہ حسن مہرباں گزرا بسا کے دل میں ترے غم ترے ستم اے دوست جہاں جہاں سے بھی گزرا میں نغمہ خواں گزرا
کسی خوشی کا مرے دل کو اعتبار نہ دے جو اعتبار اگر دے تو بے شمار نہ دے رسن ہو روح کو اور پاؤں کی بنے زنجیر کسی نگاہ کو اب مجھ پہ اختیار نہ دے اماں میں آ کے بھی جس کی میں بے امان رہوں کسی بھی ایسی نظر کا مجھے حصار نہ دے میں تیرے فن کی گو تخلیق بے بہا ہی سہی دے افتخار مجھے زعم افتخار نہ دے بھلا بہت ہے محبت میں درد مایوسی خدا کسی کو کبھی زخم انتظار نہ دے عا