کون آنکھوں میں چھپے کرب کو پڑھتا ہے
لوگ اتنے بھی سمجھدار کہاں ہوتے ھیں
🤐میں خاموش سی کتاب ہوں
مجھے خاموش سے پڑھنے والے کی تلاش ھے
میرے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
امام صف انبیاء
نام پہ ان کے لازم ھے صل علی
لازم ھے صل علی
لازم ھے صل علی
🌺 صل اللہ علیہ وآلہ وسلم 🌺
🌺🌺 زندگی 🌺🌺
آپ چالیس سال کے ہو جائیں تو سمجھ لیجئے کہ زندگی کی عصر ہو چکی ہے ۔اپنے اخلاق ، کردار اور آخرت کی طرف توجہ دیجئے
کیونکہ عصر اور مغرب میں زیادہ تاخیر نہیں ہوا کرتی ۔
جو دلوں میں کیف و سرور ھے
یہ نگاہ لطف 🌺🌺🌺حضور (ص) ھے
چلو مل کے سارے پڑھو یہی🌺🌺🌺 صلو علیہ وآلہ صلو علیہ وآلہ
ہر بات آپ کے لیے تھوڑی ھے لیکن
ٹانگ اڑانے میں کسر نہیں چھوڑی ہے
کیا کوئی مجبوری ھے؟ یا بس ....رائے دینا ضروری ہے ۔بچپن سے سنا ھے ہم نے پہلے تولو پھر تم بولو لخویات کا در مت کھولو
دل آزاری سے بہتر ھے جا کر اپنا منہ ہی دھو لو۔ قابو کرو جذبات کو جانے بھی دو کسی بات کو ۔دن برا گزرا ہو سو جاؤ جلدی رات کو ۔تھوڑی سی استعمال کرو
عقل سب کو پوری ھے۔
فساد کے اس دور میں
کبھی چپ رہنا بھی ضروری ہے
مجھ میں ان کی ثنا کا سلیقہ کہاں
وہ شاہ دو جہاں میں کہاں وہ کہاں
ان کے دامن سے وابستہ میری نجات
ان پہ قربان میری حیات و ممات
میں گنہگار وہ شافع آسیاں
بے کسوں کی اماں وہ کہاں میں کہاں
وہ مدینہ نگینہ ھے ،جو عرش کا
وہ مدینہ بھرم ،جو بنا فرش کا
وہ مدینہ جہاں رحمتیں بے کراں
میں بھی پہنچوں وہاں وہ کہاں میں کہاں
ان پر ہر دم سلام ان پر ہر دم دررود
میں سراپا عدم وہ سراپا وجود
وہ حقیقت میں افسانہ و داستان
ان کا میں مدح و خواں
وہ کہاں میں کہاں
مجھ میں ان کی ثنا سلیقہ کہاں
وہ شاہ دو جہاں وہ کہاں میں کہاں
🌺 صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 🌺
چپ کی چادر سے ڈھانپ کے رکھنا
بے سبب بھی کبھی کبھی ہنسنا
جب بھی کوئی بات ہو تلخی کی
موضوع گفتگو بدل دینا
شکستہ کھوکھلا سا دل
ادب میں سہہ گیا سب کچھ
💫سو ہم نے کھو دیا سلسلہ رسائی کا
🥀ہماری آخری میسج پہ ایک ٹک کا دکھ ھے
پارساؤں کے الم کیسے بیاں ہوں کہ انھیں عشق ہو جائے تو اظہار نہیں کر پاتے
یہ کیوں ہمیشہ میری طلب ہی تمھیں صدا دے
کبھی تو خود بھی سپردگی کی تھکن میں آؤ
جس درد میں وہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یاد آئیں
اس درد کی دوا کا کیا کرنا
اگر تھک رہے ہو تو یاد رکھو
بڑی آزمائشوں پر صبر کے بڑے اجر ہوتے ھے
🔥یہاں لوگ کسی کو منانے سے زیادہ
🍁اس کو چھوڑ جانا بہتر سمجھتے ھے
نہیں آتا کسی پر دل ہمارا
وہی کشتی وہی ساحل ہمارا
یہاں تو سنگ مرمر کی چمک پر لوگ مرتے ہیں
میرے کچے مکان تیرا کھلا در کون دیکھے گا
غصب کی دھوپ تھی اپنائیت کے جنگل میں
🍂شجر بہت تھے مگر کوئی سایہ دار نہ تھا
کبھی ہم رشتوں میں لحاظ رکھتے رکھتے ۔۔۔۔۔۔
بہت سارا زہر اپنے اندر اتار دیتے ھے،
ایسے میں ہم خود کو مار کر اگلے کو زندہ رکھتے ھے لیکن
ہماری قدر پھر بھی نہیں ہوتی
کاش وہی جہاں ملے
وہی گود وہی سایہ
وہی ماں ملے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain