اتنا تو حوصلہ میرے جذبوں کو دے خدا
میں تلخی حیات کا شکوہ نہ کر سکوں
شبنم کی طرح گر کے خاموش ہی رہوں
خوشبو کی طرح درد کا چرچا نہ کر سکوں
لیے نگاہ کرم کی طلب تو بیٹھے ھے
نگاہ یار کی مرضی پڑے پڑے نہ پڑے
اشکوں نے بیان کر ہی دیا راز تمنا
ہم سوچ رہے تھے ابھی اظہار کی صورت
اے کی چن چڑھا دتا ای
سانوں ای مگروں لا دتا ای
🤔😌😊😀
مٹی دیاں ڈھیریاں نو روز کیہڑا آ کے تک دا
موئیاں نال ایڈی لمبی سانجھ کوئی نئیں رکھ دا
نہیں ھے ترک محبت پر وہ راضی
قیامت ھے کہ ہم سمجھا رہے ھے
کبھی تو چونک کے دیکھے کوئی ہماری طرف
کسی کی آنکھ میں ہمیں بھی انتظار دکھے
خود پکارے کی منزل تو ٹھہر جاؤں گی
ورنہ خودار مسافر ہوں گزر جاؤں گی
تم ہو گاڑی میں سے تکتی ہوئی آنکھیں
میں وہ منظر جو پیچھے کہی رہ جاتا ھے
دعا کا ٹوٹا ہوا حرف سرد آہ میں ہے
تیری جدائی کا منظر ابھی نگاہ میں ھے
دیوے بالیاں رات نئی ٹلدی
تے اکھاں مٹیاں دکھ نئی جاندے
میں فقیر مست ہوں یعنی خمیر مست ہوں
کسی نے آپ سے کہا میرا خیال کیجیے
کہاں ہو تم کدھر کھو گئے ہو
اے مقدر میرے کیوں سو گئے ہو
سلیقہ ہو کسی کے درد کو محسوس کرنے کا
تو کسی کی خاموشی بھی اکثر بات کرتی ھے
آنسو تم میری پلکوں پہ مچلتے کیوں ہو
خوف رسوائی ھے تو گھر سے نکلتے کیوں ہو
خدا نے کیوں دل درد آشنا دیا مجھے
اس آگہی نے تو پاگل بنا دیا مجھے
تم بھی جاننے لگے ہو مجھے
کیا تم بھی چھوڑ جاؤں گے
ہم ہی ہدف ہم ہی بسمل،ہم پہ ہی طعنہ زنی
ستم تیرے ،گلے تیرے، یہی سہی یونہی سہی
انتظار مرتا نہیں آنکھوں میں جم جاتا ھے
ھاں بس آنکھیں مر جاتی ھے🥀۔
آخر سب کا متفقہ فیصلہ ٹھہرا کہ
میرا جینے کا کوئی حق نہیں بنتا