خوبصورت جوانی جو آزادی کے نام پر
خود کو جلا بیٹھتی ہے
کشش یہاں محبت نہیں
ایک خطرناک لت بن جاتی ہے
بس ہاتھ تیرا ہاتھ میں آنے کی دیر تھی
سب مہر و ماہ و ارض و سما ہم نے پا لیے
تم زمانہ آزما کے آؤ
میں اِدھر ہی ہوں
ہم ازل سے اکیلے رہتے ہیں
آپ نے چھوڑ کر کوئی احسان نہیں کیا
💘
ہم بھول سکے ہیں نا تجھے بھول سکیں گے
تو یاد ہے ہمیں ہاں تو یاد رہے گا ہمیں
تکلیف یہ نہیں کہ تیرے عزیز اور بھی ہیں
درد تو تب ہوا جب ہم نظراندار ہوۓ
جن کے ہم منتظر رہے اُن کو
مل گئے اور ہم سفر شاید
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain