میں چاھتی ھوں میں مر جاؤں ھاں میں چاھتی ھوں میں مر جاؤں 😥 اور میری موت کی خبر اُس تک پہنچے تو اُس دل کانپ اُٹھے 💔 اُس کی دھڑکن رُک جائے اُس کی سانسیں تھم جائیں اور ایک دفعہ صرف ایک دفعہ اُس کی آنکھیں بھی میرے لئے برسیں میری قبر پہ وہ تازہ گلاب رکھے . اُسکی آنکھیں بھی سرخ گلاب سے آشنا ھوں وہ مجھ سے ایک ملاقات کے لئے تڑپے اور میں دور آسمانوں کے پار اُس کے حال پہ مُسکرا دوں ! 💔💔
اب تک نہ کھل سکا کہ مرے روبرو ہے کون! کس سے مکالمہ ھے پسِ گفتگو ہے کون! سایہ اگر ھے وہ تو ھے اُس کا بدن کہاں؟ مرکز اگر ھوں میں تو مرے چار سو ھے کون! اشکوں میں جھلملاتا ھوا کس کا عکس ھے تاروں کی رہگزر میں یہ ماہ رو ھے کون!