کتنا مشکل ھوتا ھے نہ
ھر درد کو اندر ھی اندر سہنا خاموش رہنا اور ہنس ہنس کر سب سے کہنا میں ٹھیک ھوں 🔥
کتنی عجیب بات ھے نا؟ ایک دردناک لمحہ ساری عمر کی خوشیاں چھین لیتا ھے اور ایک خوشی کا لمحہ ساری عمر کے دُکھوں کا ازالہ نہیں کرسکتا زخم مندمل ضرور ھوجاتے ھیں دُھلتے کبھی نہیں ھیں جیسے چنگاری کو ھوا دو تو راکھ اڑنے لگ جاتی ھے دکھوں کو بھی ھوا دو تو پھر سے تازہ ھوجاتے ھیں💔
تم وہ ہاتھ ھو
جو اگر ہاتھوں میں ھو تو عمر بھر کی محرومیاں عمر بھر کے لیے مٹ جاتی ھیں
تم وہ آنکھ ھو
جس میں بد سے بدتر شے میں بھی خوبصورتی دیکھی جا سکتی ھے
تم وہ دل ھو
جسے دنیا کا خوبصورت ترین دل کہا جا سکتا ھے
اور تم وہ جان ھو
جو صرف میری ھے ❣️
بس اتنی سی کوشش کیا کریں کہ کوئی آپ کی وجہ سے رب کے سامنے نہ روئے
👍💔
اگر کوئی شخص آپ کو چھوڑ جاۓ یا آپ سے منہ پھیر لے تو غمگین مت ہونا۔۔۔۔۔ کیونکہ ممکن ھے کہ یہ آپ کی دعا کا نتیجہ ھو ، جو کبھی آپ نے مانگی تھی کہ ” اے رب العالمین ہر اس شے کو مجھ سے دور کر دے جو میرے حق میں بہتر نہیں..🥀
اصلاح کے سو الفاظ سے زیادہ تجربے کی ایک ٹھوکر انسان کو مضبوط بناتی ھے🥀
کچھ باتیں سمجھانے پر نہیں
بلکہ خود پر بیت جانے پر ھی سمجھ میں آتی ھیں۔
دُوسروں کی ماننا ان کو اہمیت دینا ان کو سراہنا ان کو سننا سمجھنا ان سے مُحبّت ھے، یہ وہ مُحبّت ھے جسے انسانیت کہا جاتا ھے
تسلی کی بات فقط یہ ہے کہ___
ایک دن ہم بھی مر جائیں گے___
میں وہ دنیا ھوں جہاں تیری کمی ھے سائیاں
میری آنکھوں میں جدائی کی نمی ھے سائیاں
میرے زخموں کی دوا تیرے سوا کوئی نہیں
میری تنہائی میری جاں پہ بنی ھے سائیاں
اپنے ٹوٹے ہوئے خوابوں کو سنبھالوں کیسے
خود کو دنیا کی نگاہوں سے چھپا لوں کیسے
اپنے ہاتھوں سے دیا دل کا بجھا لوں کیسے
اپنے ہاتھوں سے دیا دل کا بجھا لوں کیسے
میری تنہائی میری جاں پہ بنی ھے سائیاں
میری آنکھوں میں جدائی کی نمی ھے سائیاں
میری ہستی کو ہرا کر دے خزاں ھوں مولا
دے مجھے میرا پتہ کوئی کہاں ھوں مولا
اک بجھے گھر کے چراغوں کا دھواں ھوں مولا
اک بجھے گھر کے چراغوں کا دھواں ھوں مولا
میری آواز میرے دل میں دبی ھے سائیاں
میری آنکھوں میں جدائی کی نمی ھے سائیاں
اور پھر کچھ وقت گزرا، اور پھر انکے..
!رویئے تلخ
!لہجے سخت
اور محبتیں پھیکی پڑنے لگی
💔
ﭼﺎﮨﺘﻮﮞ ﮐﮧ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮯﺧﻮﺩﯼ
ﺫﺭﺍ ﺫﺭﺍ
ﻭﮦ ﻣﺨﺘﺼﺮ ﺳﯽ ﺧﻮﺍﮨﺸﯿﮟ
ﺍﻭﺭﻋﺎﺷﻘﯽ ﺫﺭﺍ ﺫﺭﺍ
ﯾﮧ ﺩﻭﺭﯾﺎﮞ ﻧﺰﺩﯾﮑﯿﺎﮞ
ﺳﺐ ﮐﮩﻨﮯ ﺳﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ھﯿﮟ
ﻟﻔﻈﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻓﺎﺻﻠﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻨﺪﮔﯽ ﺫﺭﺍ ﺫﺭﺍ
ﮐﺲ ﺍﺩا ﺳﮯ ﻣﺎﻧﮓ ﻟﻮﮞ ﮐﮧ ﻣﻞ ﺟﺎﮰ
ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﮎ ﺩﻋﺎ ﻣﻨﺘﻈر ﻟﺐ ﺍﻭﺭ
ﻋﺎﺟﺰﯼ ﺫﺭﺍ ﺫﺭا
ﮐﺒﮭﯽ ﮨﺠﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻗﺮﺍﺭ ہے
ﮐﺒﮭﯽ ﺩﮬﮍﮐﻨﻮﮞ ﺳﮯ
ﺑﮭﯽ ﺍﻟﺠﮭﻦ
ﻧﮧ ہوﺵ ھﮯ ﻧﮧ ﺧﻮﺩ ﮐﯽ
ﺧﺒﺮ
ﺍﻭﺭ ﺩﯾﻮﺍﻧﮕﯽ ﺫﺭﺍ ﺫﺭﺍ
ﺍﮮ ﺩﻝ ﮐﺎﻧﭻ ﮐﮧ
ﯾﮧ ﺧﻮﺍﺏ ھﯿﮟ ﭘﻠﮑﯿﮟ ﮐﮭﻠﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ
ﺑﮍﯼ ﺣﺴﺮﺗﯿﮟ ھیں ﺟﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺫﺭﺍ ﺫرا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain