لڑکی ایک نوجوان کے مسلسل گھورنے سے پریشان ہوئی تو ساتھ سیٹ پہ بیٹھی بزرگ عورت سے بولی "یہ بے حیا مرد پچھلے آدھے گھنٹے سے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر مجھے دیکھ رہا ھے“ بوڑھی اماں نے سر سے پاوں تک لڑکی کو دیکھا اور اطمینان سے بولی : یہ وہی دیکھ رہا ھے جو تم نے دکھانے کے لیے اتنے چُست کپڑے پہن رکھے ھیں : موصوفہ گرج دار آواز میں بولی "میرا جسم میری مرضی" بُزرگ عورت حماقت پر مبنی اس جملے کو سُن کر کہنے لگیں۔ "اگر تُمہارا جسم تُمہاری مرضی ہے تو اُس نے کونسی آنکھیں بینک سے قرضے میں لے رکھی ھیں! اُسکی آنکھیں اُسکی مرضی. 😂 ┄┉❈❥❀❀❥❈┉┄
-" ہم کچی عمروں میں وہ سمجھدار لوگ ھیں جنہوں نے خواب دیکھنے کی عمر میں اپنے خوابوں کو ٹوٹتا دیکھا اور پھر اپنی ویران آنکھوں پر کوئی رنگین خواب سجنے سے ہمیشہ خود کو روکنے کی کوشش میں وقت سے پہلے خود کو بوڑھا ہوتے دیکھا ھے_"💔
اب مجھے تحریروں کی آڑ میں ماتم لکھنا پسند ھے یہ جو لوگ زندگی کے سب سے قریب ہوتے ھیں ناں،، اذیت کا باعث بھی یہی مہربان ہستیاں بنتی ھیں ان کے الفاظ رویہ اور گریز کر جانا جدائی کی اذیت سے زیادہ درد ناک ھوتا ھے۔