میں جب چھوٹی تھی تو سوچتی تھی کہ اتنے بڑے جہاز کو رنگ کیسے کرتے ھیں 🤔 جب بڑی ہوئی تو پتا چلا....... جب جہاز اوپر جا کر چھوٹا ھو جاتا ھے تب کرتے ھیں 😂😂😆😆 ┄┉❈❥❀❀❥❈┉┄
میری چیخ چَھنی دیواروں پر میرے بین سنے دروازوں نے مجھے لگا تھا وحشت ٹھیک ھے پر مجھے مار دیا اندازوں نے ۔ لب کھولے تو پھر شہر کے قاضی فتویٰ لے کر پیچھے تھے میں پل بھر کو خاموش ھوا منہ پیٹ لیا آوازوں نے ۔ پڑھا دن بھر حضرت غالبؔ کو سنا شب بھر نصرت صاحب کو مرے درد چنے تھے شعروں نے مرے زخم بھرے تھے سازوں نے ۔ میری عقل پہ عقل کا پردہ تھا میری سوچ پہ سوچ کا پہرا تھا میری آنکھیں پھٹ گئیں حیرت سے مجھے پاگل کر دیا رازوں نے ۔ ترے ذمے مری گواہی تھی افسوس کہ تم اب آئے ھو جب مار دیا مجھے لوگوں نے جب نوچ لیا مجھے بازوں نے ۔ امیر سخن
کس نئے خواب میں رہتا ھوں ڈبویا ھوا میں ایک مدت ھوئی جاگا نہیں سویا ھوا میں میری سورج سے ملاقات بھی ھو سکتی ھے سوکھنے ڈال دیا جاؤں جو دھویا ھوا میں مجھے باہر نہیں سامان کے اندر ڈھونڈو مل بھی سکتا ھوں کسی شے میں سمویا ھوا میں بازیابی کی توقع ھی کسی کو نہیں اب اپنی دنیا میں ھوں اس طرح سے کھویا ھوا میں شام کی آخری آہٹ پہ دہلتا ھوا دل صبح کی پہلی ہواؤں میں بھگویا ھوا میں آسماں پر کوئی کونپل سا نکل آؤں گا سالہا سال سے اس خاک میں بویا ھوا میں کبھی چاہوں بھی تو اب جا بھی کہاں سکتا ھوں اس طرح سے ترے کانٹے میں پرویا ھوا میں میرے کہنے کے لیے بات نئی تھی نہ کوئی کہہ کے چپ ہوگئے سب لوگ تو گویا ھوا میں مسکراتے ہوئے ملتا ھوں کسی سے جو ظفرؔ صاف پہچان لیا جاتا ھوں رویا ھوا میں ظفر اقبال
میں چاہے چار لوگوں کے اکٹھ میں بیٹھوں یا چار سو کی بھیڑ میں گم رھوں ۔۔ میرے خیالات کی سوٸیاں تمھاری سوچ کے ہندسوں پر ہی اٹکی رہتی ھیں یوں جیسے وقت کٹ بھی رھا ھو اور کاٹا بھی نہ جاسکے __ ┄┉❈❥❀❀❥❈┉┄