آخر ایسا کیوں ھوتا ھے کہ انسان اپنا سب کچھ لوگوں پر قربان کر دیتا ھے، اپنا وقت، اپنے احساسات، اپنے جذبات، پھر بهى اکیلا ره جاتا۔ جب اسے خود کسى اپنے کى ضرورت ھوتى ھے تب کوئی آس پاس نہیں ھوتا۔ وه چیختا ھے، چلاتا ھے کہ کوئی تو ھو جو اسے سنے، سہارا دے، دکھ کا ساتھی بنے، جب وه خوش ھو تو اسکے ساتھ ہنسے، جب اداس ھو تو اسکا غم بانٹے۔ آخر کیوں لوگوں کو کسى کا خلوص نظر نہیں آتا، کیوں کسى کى سچائی کى کوئی اہمیت نہیں آخر کیوں مطلب پرستى احساسات پر بازى لے جاتى ہے، محبت ہو یا دوستى ، رشتے ھوں یا کوئی اور تعلق سب بس مطلب کى حد تک ہى ساتھ رہتے ھیں آخر کیوں لوگ بدل جاتے ھیں، اپنے وعدے بھول جاتے ہیں، ساتھ گزارے ہوے لمحات بھول جاتے ھیں آخر انسان اتنا خود غرض کیوں ھے ؟؟؟
ھوتی جو نہیں تم سے تو پھر کرتے ھی کیوں ھو۔۔۔
تم لوگ محبت کا بھی نقصان کرو گے ۔۔۔
میں کسی کی کتابِ ہستی میں۔۔۔
کبھی ضروری تھا، اب اضافی ہوں۔۔
! تا حیات
تمہارے چہرے کی جُھریوں سے لیکر
تمہارے نحیفُ البدن ہونے تک
سانسیں کم ہوں یا زیادہ مگر سچ یہی ھے
میں اپنی آخری سانس تک تم سے
فقط محبت کروں گا
بغیر اس کے اب آرام بھی نہیں آتا
وہ شخص جس کا مجھے نام بھی نہیں آتا
اس کی شکل مجھے چاند میں نظر آئی
وہ ماہ رُخ جو لبِ بام بھی نہیں آتا
کروں گا کیا جو محبت میں ھو گیا ناکام
مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا
بٹھا دیا مجھے دریا کے اس کنارے پر
جدھر حباب تہِ جام بھی نہیں آتا
چرا کے خواب وہ آنکھوں کو رہن رکھتا ھے
اور اس کے سر کوئی الزام بھی نہیں آتا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain