میں چاہتا ھوں. میں تمہیں بتاؤں. جب میں سوچتا ھوں کہ. تم میرے نہیں ھو. تو یہ احساس مجھے ایسے کھاتا ھے. جیسے کسی لکڑی کو دیمک لگ جائے. تو بظاہر تو وہ لکڑی ہمیشہ. تندرست نظر آتی ھے. مگر اندر سے کھوکھلا ھو کے. ختم ھو چکی ھوتی ھے. میں بھی اسی طرح. اندر ھی اندر کھوکھلا ھوتا جا رہا ھوں. بظاہر تو تندرست نظر آتا ھوں سب کو. مگر کسی دن زمین بوس ھو جاؤں گا. اور سب کہیں گے. اچھا بھلا تو تھا. پر تم گواہ رہنا کہ. مجھے تمہاری دیمک نے کھایا ھے. میں اچھا بھلا نظر آتا ھوں. مگر خدا جانتا ھے ھوں نہیں.