جھٹک کے چل نہیں سکتا ہوں تیرے دھیان کو میں
اٹھائے پھرتا ہوں سر پر اک آسمان کو میں
میں تجھ سے اپنا تعلق چھپا نہیں سکتا
جبیں سے کیسے مٹا دوں ترے نشان کو میں
یہ لوگ مجھ سے اداسی کی وجہ پوچھتے ہیں
بتا چکا ہوں ترا نام اک جہان کو میں
جو عہد کر کے ہر اک عہد توڑ ڈالتا ہے
زبان دوں گا بھلا ایسے بے زبان کو میں
میں فتح کر کے کوئی قلعہ کیا کروں گا سلیمؔ
لو آج توڑتا ہوں تیر کو کمان کو میں
غزل تم نے چھیڑی ہے مرے خیالوں میں
کبھی الجھا کر کبھی سلجھا کر زلفیں

