یہ مت سوچنا کہ ہم غافل ہو گئے ہیں تیری یاد سے
بس تمہیں مصروف سمجھ کر زیادہ تنگ نہیں کرتے
کر ان کا ادب، رکھ انہیں سینے سے لگا کر
یہ درد ، یہ تنہائیاں ، مہمان ہیں محسن
ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﻏﻢ ﮐﮯ ﻓﻮﺍﺋﺪ ﺑﯿﺎﮞ ﮐﺌﮯ
ﭘﮭﺮ ﻭﻗﻔﮧ ﻟﮯ ﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ، ﺧﻮﺵ ﺭﮨﺎ ﮐﺮﻭ
میں نے کہا اک پل میں کیسے نکلتی ہے جان
اس نے چلتے چلتے میرا ہاتھ چھوڑ دیا
بہت سخی ہے یہ بازار محبت
یہاں قدم قدم پر درد ہی درد ملتا
ہم نے سمیٹے ہیں درد دنیا کے
تم سے ایک ہم نہ سمبھالے گئے
مت پوچھنا کہ درد کس کس نے دیا ورنہ کچھ اپنوں کے سر بھی جھک جائنگے
بہت درد چھپے ہیں رات کے ہر پہلو میں
اچھا ہو کے کچھ دیر کے لیے نیند آجائے
میرے بعد کوئی نہ روۓ گا مجھ پر
میں سب کے دل میں اتنی نفرت بھر جاوں گا
مصروف زندگی میں تیری یاد کے سوا
آتا نہیں ہے کوئی میرا درد بانٹنے
کیوں ہر اک شخص مجھے درد دے جاتا ہے
کیا میرے دل پہ لکھا ہے یہاں درد لیئے جاتے ہیں
دل تڑپ تڑپ کر تمہیں یاد کرتا ہے
محسوس کرتا ہے درد مگر بول نہیں سکتا
مرنا تو اس جہاں میں کوئی حادثہ نہیں
اس دورِ ناگوار میں جینا کمال ہے
اب سنورتے رہو بلا سے میری
دل نے سر کار خو د کشی کرلی۔
جرم میں ہم کمی کریں بھی کیوں
تم سزابھی تو کم نہیں کرتے ۔
داستاں ختم ہونے والی ہے
تم میری آخری محبت ہو۔
پڑے ہیں ایک گوشے میں گماں کے
بھلاہم کیا، ہماری زندگی کیا۔
علاج یہ ہے کہ مجبور کردیا جاؤں
وگر نہ یوں تو کسی کی نہیں سنی میں نے۔
و حشتوں کابسیراہے مجھ میں
آج کل مجھ سے اجتناب کیجیئے ۔