ہنس ہنس کے سُنا تی ہے جہا ں بھر کے فسانے
پُو چھوں تیرے با رے میں تو رو دیتی ہے بارش۔
مرنا تو اس جہاں میں کوئی حادثہ نہیں
اس دورِ ناگوار میں جینا کمال ہے
اور تو کچھ نہیں کیا میں نے
اپنی حا لت خراب کرلی ہے۔
سمجھ کرمال غنیمت مجھ کو
اس کی یادوں نے بے پناہ لوٹا
بڑی بھیانک ہوتی ہیں عشق کی سزائیں
بندہ پل پل مرتا ہے مگر موت نہیں آتی
اک پل بھی تیری یاد سے غافل نہیں ہوا
میں مذہب وفا کا تہجد گزار ہوں
ٹکڑے پڑے تھے راہ میں تصویر کے بہت،
لگتا ھے کوئی دیوانہ سمجھدار ھو گیا
اس راہِ محبت کی تم بات نہ پوچھو،
انمول جو انساں تھے بے مول بِکےھیں،