"میں تمہیں چاند کہوں یہ ممکن تو ہے مگر،
لوگ تمہیں رات بھر دیکھیں یہ مجھے گوارہ نہیں"-
یہ دنیا نفرتوں کے آخری اسٹیج پہ ہے
علاج اس کا محبت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
وہ ہم سے ہوتے ہم کلام توکچھ بات ہوتی ❤️
وہ آتے ہمارے رو برو تو کچھ بات ہوتی ❤️
وہ تو اس طرح ہم سے ہوئے بے خبر ❤️
جیسے ہم ان کے لیے کچھ بھی نہیں
کچھ لوگ ہماری عادت بن جاتے ہیں۔۔
اور عادتیں چھوٹتی کہاں ہیں۔۔۔
تُو اپنی سانولی رنگت پہ ہو چلی هے اداس
زوالِ حُسن کی وحشت کسی حَسین سے پوچھ
حرف تسلی تو ــــــــــ اک تکلف ہے ورنہ....
جس کا درد اسی کا درد‘ باقی سب تماشائی...
دور باطل میں. حق پرستوں کی
بات رہتی ھے... سر نہیں رہتے
" آپ کہہ سکتے ہیں حوصلہ کیجیے!
آپ درد محسوس جو نہیں کر سکتے"
ستاروں سے بھرا یہ آسماں کیسا لگے گا ۔
ہمارے بعد تم کو یہ جہاں کیسا لگے گا ۔💔
کبھی کبھی شکایت کرنے سے بہتر ہے انسان خاموش رہے,,
کیونکہ جب فرق ہی نہیں پڑتا تو شکایت کیسی..
سنو
تمھیں میں چھوڑ دوں
لیکن
بس اک ذرا سی بات ہے
جاناں
کہ
کبھی کسی کی بگڑی ہوئی عادت
بھی چھوٹی ہے؟
تو تم سن لو
کہ
تم میری وہی بگڑی سی عادت ہو
مجھ کو سمجھنا ہے تو مجھ میں اتر کر دیکھ
یوں کناروں سے سمندر نہیں دیکھے جاتے.
پانی لے سکتے ہیں دریا سے مگر کوزے میں ہم
بہتے دریا کی روانی بند کر سکتے نہیں
شعر یوں کہنے کو کہہ لیں لیکن اخترؔ سچ یہ ہے
دل کے محسوسات کو لفظوں میں بھر سکتے نہیں
میں نے اعتراف محبت کے بعد
محبتوں کو بھیک مانگتے دیکھا ہے
تم کہو اور میں جان دے دوں
معزرت اب میں وہ نہیں رہا
اچھا تو پھر بتا ئیے کیسا رہا سفر
ٹوٹی کہاں پہ جوتیاں, چھالے کہاں پڑے
کس موڑ پہ جناب کی ہمت نے دم دیا
صاحب کو اپنی جان کے لالے کہاں پڑے.
میں جتنا رو لوں، طبیعیت بھلی نہیں ہوتی
دیے جلانے سے اب روشنی نہیں ہوتی
تمہارے بعد میں ایسے مقام پر ہوں جہاں
خوشی ملے بھی تو کوئ خوشی نہیں ہوتی
بجز ہمارے، زمانہ ہے اس کی آنکھوں میں
کچھ اس وجہ سے بھی دکھ میں کمی نہیں ہوتی
میرے آنسو پونچھ کر کوئی بس یہ بتا دو مجھے
رولانے والے ہی آکثر کیوں یاد آتے ہیں💔
وہ میرے دل کی تسبیح ہے
دل توڑے گا تو اپنا ہی ذکر گنواۓگا
انسان جب اندر سے ٹوٹ جائے
تو کسی بھی ماحول میں خوش نہیں ہوتا
چاہے آس پاس کتنی محبت اور احساس کرنے والے لوگ کیوں نہ ہوں🔥
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain