سب لکیروں نے پھیر لی آنکھیں
ہو گیا ہاتھ ، میرے ہاتھ کے ساتھ
راغب تحسین
مَیں کہنے سے زیادہ جانتا ہوں ، بولنے سے زیادہ سوچتا ہوں اور..... اور بھی بہت کچھ ہے
مگر
مَیں کیوں بتاؤں ؟
غزل کے دو شعر
بے شمار اس نے واہمے پالے
زندگی با خبر نہیں گزری
جس توقع پہ خلد چھوڑی تھی
ویسے اچھی ادھر نہیں گزری
عبید رضا عباس
کیسی عجیب بات ہے 
مری انا مجھے روکے ہے پاس جانے سے
قریب وہ نہیں آتا مرے بلانے پر
عبید رضا عباس
تلازمہ کاری
آپ کی سانس اکھڑ رہی ہے ابھی
آزمائش میں دل بڑا کیجیے
عبید رضا عباس
اپنے دکھ کی وجہ کبھی کسی کو مت بتائیے لوگ لطف وہاں بیٹھ کر لیں گے چسکے آپ کے دشمنوں میں لیں گے ۔
ایہام ، ذو معنی اور آفاقی شعر
تعلقات میں سب ایک دوسرے سے کہتے ہیں
محبتوں کی زمیں ہے سو گل کھلائیں گے
عبید رضا عباس
آمد کا تار بندھا ہے آج سو حظ اُٹھائیں ۔
۔
۔
۔
میں تخیل کا بادشہ ہوں عبید
میں توارد گناہ جانو ہوں
میں مکمل عبید اس کا ہوں
طنز بھی اس کے واہ جانوں ہوں
ذومعانی"
دوستی اس لیے نہیں ممکن
دل کے کالے، سیاہ جانو ہوں"
عبید رضا عباس
ہم انا کے معاملے میں عبید،
اس قدر سخت ہیں، کہ پوچھیے مت۔
عبید رضا عباس
ایہام ، سہل پسندی مع دقیق
تھکا ہوں سوچ کے ہر زاویے پہ ، تب مانا
یہ بات سچ ہے کہ ہر بات ہی کلیشے ہے
عبید رضا عباس
ایک مطلع دو تعلی کے اشعار بصد احترام پیش ہیں، ملاحظہ بفرمائید ۔
برے نصیب یہاں بھی ملا نہیں گھر بار
کہانیوں میں انوکھا رہا مرا کردار
۔۔
تعلی
ہے میری عمر سے بڑھ کر ترا مطالعہ پر
مرے خیال کو پہنچے ، تری مجال ہی کیا ؟
تعلی
خدارا آپ سمجھنے کی بھول مت کیجیے
میں سات رنگوں کے کردار سا انوکھا ہوں
۔
عبید رضا عباس
سوچیے اس کے خلق ہونے کو
کیجیے عشق ایک مورت سے
۔
ایہام
اتنے عرصے کے بعد بھی نہ ہٹی
آج بھی آنکھ اس کی صورت سے
عبید رضا عباس
ہر زباں پر کیوں نہ چرچے ہوں عبید
ساتھ دشمن جب ہمارے بیٹھے ہیں
ع ر ع
حوصلے دیکھ کر عدو کے عبید
پیچھے ہٹنے میں عافیت جانی
عبید رضا عباس
ہوش اپنے اگر سلامت ہوں
مسئلہ ، مسئلہ نہیں رہتا
ع ر ع
قدم در قدم جب پریشانیاں ہوں
مجھے تو نہیں پھر، طلب زندگی کی
ع ر ع
تین شعر ۔
سچ کہوں تو مجھے پسند نہیں
اپنی تعریف، زبانی اپنی
حوصلہ پست نہ ہونے پائے!
ہار میں نے بھی نہ مانی اپنی
ہمسفر آج ذہانت ہے عبید
آج لکھوں گا کہانی اپنی
عبید رضا عباس
سہل
اعتبار اس کا گیا ٹوٹ مگر
چا کے بھی ہار نہ مانی اس نے
ع ر ع
جب بھی دیکھا نظام دنیا کو
دل خدا سے بہت دکھا میرا
رفیع رضا
تیری قدرت پہ کس کو شک ہو کہ تو
آزمائش بھی من پسند کی لے
عبید رضا عباس
خودداری کو بیچ نہ پایا دو روٹی کے لیے اثر
جو جرمانہ وقت نے چاہا ادا کیا ہے سب کا سب
استاد محترم
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain