Damadam.pk
Abeed's posts | Damadam

Abeed's posts:

Abeed
 

سب لکیروں نے پھیر لی آنکھیں
ہو گیا ہاتھ ، میرے ہاتھ کے ساتھ
راغب تحسین

Abeed
 

مَیں کہنے سے زیادہ جانتا ہوں ، بولنے سے زیادہ سوچتا ہوں اور..... اور بھی بہت کچھ ہے
مگر
مَیں کیوں بتاؤں ؟

Abeed
 

غزل کے دو شعر
بے شمار اس نے واہمے پالے
زندگی با خبر نہیں گزری
جس توقع پہ خلد چھوڑی تھی
ویسے اچھی ادھر نہیں گزری
عبید رضا عباس

Abeed
 

کیسی عجیب بات ہے .b1
مری انا مجھے روکے ہے پاس جانے سے
قریب وہ نہیں آتا مرے بلانے پر
عبید رضا عباس

Abeed
 

تلازمہ کاری
آپ کی سانس اکھڑ رہی ہے ابھی
آزمائش میں دل بڑا کیجیے
عبید رضا عباس

Abeed
 

اپنے دکھ کی وجہ کبھی کسی کو مت بتائیے لوگ لطف وہاں بیٹھ کر لیں گے چسکے آپ کے دشمنوں میں لیں گے ۔

Abeed
 

ایہام ، ذو معنی اور آفاقی شعر
تعلقات میں سب ایک دوسرے سے کہتے ہیں
محبتوں کی زمیں ہے سو گل کھلائیں گے
عبید رضا عباس

Abeed
 

آمد کا تار بندھا ہے آج سو حظ اُٹھائیں ۔
۔
۔
۔
میں تخیل کا بادشہ ہوں عبید
میں توارد گناہ جانو ہوں
میں مکمل عبید اس کا ہوں
طنز بھی اس کے واہ جانوں ہوں
ذومعانی"
دوستی اس لیے نہیں ممکن
دل کے کالے، سیاہ جانو ہوں"
عبید رضا عباس

Abeed
 

ہم انا کے معاملے میں عبید،
اس قدر سخت ہیں، کہ پوچھیے مت۔
عبید رضا عباس

Abeed
 

ایہام ، سہل پسندی مع دقیق
تھکا ہوں سوچ کے ہر زاویے پہ ، تب مانا
یہ بات سچ ہے کہ ہر بات ہی کلیشے ہے
عبید رضا عباس

Abeed
 

ایک مطلع دو تعلی کے اشعار بصد احترام پیش ہیں، ملاحظہ بفرمائید ۔
برے نصیب یہاں بھی ملا نہیں گھر بار
کہانیوں میں انوکھا رہا مرا کردار
۔۔
تعلی
ہے میری عمر سے بڑھ کر ترا مطالعہ پر
مرے خیال کو پہنچے ، تری مجال ہی کیا ؟
تعلی
خدارا آپ سمجھنے کی بھول مت کیجیے
میں سات رنگوں کے کردار سا انوکھا ہوں
۔
عبید رضا عباس

Abeed
 

سوچیے اس کے خلق ہونے کو
کیجیے عشق ایک مورت سے
۔
ایہام
اتنے عرصے کے بعد بھی نہ ہٹی
آج بھی آنکھ اس کی صورت سے
عبید رضا عباس

Abeed
 

ہر زباں پر کیوں نہ چرچے ہوں عبید
ساتھ دشمن جب ہمارے بیٹھے ہیں
ع ر ع

Abeed
 

حوصلے دیکھ کر عدو کے عبید
پیچھے ہٹنے میں عافیت جانی
عبید رضا عباس

Abeed
 

ہوش اپنے اگر سلامت ہوں
مسئلہ ، مسئلہ نہیں رہتا
ع ر ع

Abeed
 

قدم در قدم جب پریشانیاں ہوں
مجھے تو نہیں پھر، طلب زندگی کی
ع ر ع

Abeed
 

تین شعر ۔
سچ کہوں تو مجھے پسند نہیں
اپنی تعریف، زبانی اپنی
حوصلہ پست نہ ہونے پائے!
ہار میں نے بھی نہ مانی اپنی
ہمسفر آج ذہانت ہے عبید
آج لکھوں گا کہانی اپنی
عبید رضا عباس

Abeed
 

سہل
اعتبار اس کا گیا ٹوٹ مگر
چا کے بھی ہار نہ مانی اس نے
ع ر ع

Abeed
 

جب بھی دیکھا نظام دنیا کو
دل خدا سے بہت دکھا میرا
رفیع رضا
تیری قدرت پہ کس کو شک ہو کہ تو
آزمائش بھی من پسند کی لے
عبید رضا عباس

Abeed
 

خودداری کو بیچ نہ پایا دو روٹی کے لیے اثر
جو جرمانہ وقت نے چاہا ادا کیا ہے سب کا سب
استاد محترم