الفت میں اپنے دل کو کشادہ نہیں کیا
احسان اس نے مجھ پہ زیادہ نہیں کیا
راہ تکتی رہی امید کی رقاصہ بھی
کوئی آیا ہی نہیں وصل کے گھنگھرو لے کر
استاد محترم
پیاس کہتی ہے چلو ریت نچوڑی جائے
اپنے حصے میں سمندر نہیں آنے والا
معراج فیض آبادی
یہ رقیب اب جو ، کھلکھلا رہے ہیں
اس کے آنے سے رنگ اڑ جائیں
عبید رضا عباس
وہ اپنی ذات کی حیرت میں ہے مگن اتنا
اسے پتہ بھی نہیں، پاؤں پڑ رہا ہے کوئی
رفیع رضا
عربی کہاوت ہے
"وہ معذرت جو دیے گئے زخم یا دکھ کے مطابق نہیں،
وہ ایک اور زخم ہے۔"
تو کہانی کو نئی سمت ابھی موڑ کے جا
میں اگر بوجھ ہوں تجھ پر تو مجھے چھوڑ کے جا
اک ندا آئی ہے پھر طور سے شاید رب کی
اچھا موقع ہے ملاقات کا اب دوڑ کے جا
آ گیا پھر سے تری بانہوں میں دلبر تیرا
کر پرندے ابھی آزاد قفس توڑ کے جا
سجل کانپوری
کون کیا کہتا ہے کب فکر مجھے اِس کی "عبید"
تیرے معیار سے شناسا ہوں تجھے جانتا ہوں
عبیدؔ رضا عباس
نیکی کسی کی دریا میں ڈالی نہیں "عبیدؔ"
ہم جانتے ہیں بخت پہ آنا زوال کا
عبیدؔ رضا عباس
لاکھ کوشش کرو مگر اس نے
گفتگو میں پہل نہیں کرنی
عبید رضا عباس
کون کرتا ہے اب لحاظ "عبید"
اب زبانیں دراز ہیں سب کی
عبیدؔ رضا عباس
جانے یہ کس طرح کا تعلق ہے اس کے ساتھ
بچھڑا ہوا وہ شخص مجھے بھولتا نہیں
عبیدؔ رضا عباس
ہزاروں کام ہیں اور وقت کم، گھبرا گیا ہوں
بہت جلدی میں اپنے آپ سے ٹکرا گیا ہوں
راغب تحسین
یوں پریشانیوں نے گھیرا ہے
چھن گئے قہقہے جوانی میں
عبید رضا عباس
جنت مکانی دادا استاد کے دو اشعار
جو مل جائے تو عمرِ رفتہ سے پوچھوں
یونہی لُٹ گئی یا جوانی لُٹا دی
جو ساقی نے ہنس کر کبھی جام بخشا
تو "ساغر" نے اُٹھ کر جوانی لُٹا دی
پارا چنار 
نرگسی آنکھیں
دکھا رہا ہےوہ جیسے عبید ادا اپنی
تماش بینِ زمانہ بغور دیکھیں گے
عبید رضا عباس
لوگ پاگل بنا رہے ہیں!
اپنے مصرعے پہ گرہیں لگائیں ہیں
ملاحظہ فرمائیں ۔
ذرا سی دیر نظر سے ہوئے ہیں دور کی بس
"ہمارے نام بھی لوگوں کو بھول جانے ہیں"
مفادیوں کو غرض ہے مفاد کی حد تک
"ہمارے نام بھی لوگوں کو بھول جانے ہیں"
ص"
نزع کا وقت گزرنے کے بعد دیکھیے گا
"ہمارے نام بھی لوگوں کو بھول جانے ہیں"
عبید رضا عباس
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain