Damadam.pk
Abeed's posts | Damadam

Abeed's posts:

Abeed
 

الفت میں اپنے دل کو کشادہ نہیں کیا
احسان اس نے مجھ پہ زیادہ نہیں کیا

Abeed
 

راہ تکتی رہی امید کی رقاصہ بھی
کوئی آیا ہی نہیں وصل کے گھنگھرو لے کر
استاد محترم

Abeed
 

پیاس کہتی ہے چلو ریت نچوڑی جائے
اپنے حصے میں سمندر نہیں آنے والا
معراج فیض آبادی

Abeed
 

یہ رقیب اب جو ، کھلکھلا رہے ہیں
اس کے آنے سے رنگ اڑ جائیں
عبید رضا عباس

Abeed
 

وہ اپنی ذات کی حیرت میں ہے مگن اتنا
اسے پتہ بھی نہیں، پاؤں پڑ رہا ہے کوئی
رفیع رضا

Abeed
 

عربی کہاوت ہے
"وہ معذرت جو دیے گئے زخم یا دکھ کے مطابق نہیں،
وہ ایک اور زخم ہے۔"

Abeed
 

تو کہانی کو نئی سمت ابھی موڑ کے جا
میں اگر بوجھ ہوں تجھ پر تو مجھے چھوڑ کے جا
اک ندا آئی ہے پھر طور سے شاید رب کی
اچھا موقع ہے ملاقات کا اب دوڑ کے جا
آ گیا پھر سے تری بانہوں میں دلبر تیرا
کر پرندے ابھی آزاد قفس توڑ کے جا
سجل کانپوری

Abeed
 

کون کیا کہتا ہے کب فکر مجھے اِس کی "عبید"
تیرے معیار سے شناسا ہوں تجھے جانتا ہوں
عبیدؔ رضا عباس

Abeed
 

نیکی کسی کی دریا میں ڈالی نہیں "عبیدؔ"
ہم جانتے ہیں بخت پہ آنا زوال کا
عبیدؔ رضا عباس

Abeed
 

لاکھ کوشش کرو مگر اس نے
گفتگو میں پہل نہیں کرنی
عبید رضا عباس

Abeed
 

کون کرتا ہے اب لحاظ "عبید"
اب زبانیں دراز ہیں سب کی
عبیدؔ رضا عباس

Abeed
 

جانے یہ کس طرح کا تعلق ہے اس کے ساتھ
بچھڑا ہوا وہ شخص مجھے بھولتا نہیں
عبیدؔ رضا عباس

Abeed
 

ہزاروں کام ہیں اور وقت کم، گھبرا گیا ہوں
بہت جلدی میں اپنے آپ سے ٹکرا گیا ہوں
راغب تحسین

Abeed
 

یوں پریشانیوں نے گھیرا ہے
چھن گئے قہقہے جوانی میں
عبید رضا عباس

Abeed
 

جنت مکانی دادا استاد کے دو اشعار
جو مل جائے تو عمرِ رفتہ سے پوچھوں
یونہی لُٹ گئی یا جوانی لُٹا دی
جو ساقی نے ہنس کر کبھی جام بخشا
تو "ساغر" نے اُٹھ کر جوانی لُٹا دی

Abeed
 

پارا چنار .i5

Abeed
 

نرگسی آنکھیں

Abeed
 

دکھا رہا ہےوہ جیسے عبید ادا اپنی
تماش بینِ زمانہ بغور دیکھیں گے
عبید رضا عباس

Abeed
 

لوگ پاگل بنا رہے ہیں!

Abeed
 

اپنے مصرعے پہ گرہیں لگائیں ہیں
ملاحظہ فرمائیں ۔
ذرا سی دیر نظر سے ہوئے ہیں دور کی بس
"ہمارے نام بھی لوگوں کو بھول جانے ہیں"
مفادیوں کو غرض ہے مفاد کی حد تک
"ہمارے نام بھی لوگوں کو بھول جانے ہیں"
ص"
نزع کا وقت گزرنے کے بعد دیکھیے گا
"ہمارے نام بھی لوگوں کو بھول جانے ہیں"
عبید رضا عباس