آپ! ٹھنڈے دماغ سے سوچیں کوئی نقصان کم نہیں ہوتا اب ہیں پہلے سے خواہشیں بڑھ کر پر ارادوں میں دم نہیں بھرتا کام کرتا تو ہے دماغ مگر پر اسے دل سا غم نہیں ہوتا جسم احساسیت میں ہے کمزور اس کا زرہ بھی نم نہیں ہوتا عبید رضا عباس
اک طلاطم ہے عذابوں کا بپا دل نے کیا کیا نہ سہا دنیا میں عبید رضا عباس
حالت ایسی تھی کہ مرنا بھی تھا منظور ہمیں
کتنی طویل رکھ سکے گا گفتگو کوئی غصہ جناب من نے بٹھایا ہے ناک پر عبید رضا عباس
دھندلا کے رکھ دیے سبھی منظر کسی نے آج
نظر عجیب ٹکی دیکھتے ہی پہلی بار
التفات اس کے دیکھ ، میں نے کہا آپ ہیں پاس ، پھر کمی کیا ہے عبید رضا عباس
انکار کے الف کی دہائی کو سن لیا بے چین ہو گئی مری سانسوں کی باز گشت عبید رضا عباس
دل پہ جادو چلا ہے آپ کا یوں نام لیوا یہ دل اب آپ کا ہے عبید رضا عباس
میرا مصدر سہل پسندی ہے ڈالیے مت پہلیاں مشکل عبید رضا عباس
آزما لیجیے عبید اک بار بے وفائی کا تو سوال نہیں عبید رضا عباس
آپ کو محدود مجھ تک رہنا ہے
طبعیت سخت ناساز ہے احباب دعا فرمائیں ۔ ویسے میں کم بیمار پڑتا ہوں، بعض اوقات نظر بد کا شکار، بری طرح سے ہوتا ہوں ۔
تم سے بچھڑ کے ہم تو مقدر کے ہو گئے پھر جو بھی در ملا ہم اسی در کے ہو گئے
چلی ہے تھام کے بادل کے ہاتھ کو خوشبو ہوا کے ساتھ سفر کا مقابلہ ٹھہرا پروین شاکر
تیرے ماتھے کی شکن عمر دراز لیے سج کے بیٹھی ہوئی دلہن کی طرح جھلملاتی ہے منفرد انداز لیے نثر ہے، کمی پیشی معاف کیجیے گا ۔
پھر وہی رنگ تو دکھانے ہیں، تم کو ہر بار آزمانا کیا۔ عبید رضا عباس
زنانِ مصر کا کہنا ہے حسنِ یوسف میں نصیب کب ہمیں ایسا جمال ہوتا ہے عبید رضا عباس
میں کہ شاعر ہوں عبید اچھا بھلا سہل باتیں مجھے آتی ہی نہیں عبید رضا عباس