Damadam.pk
Abeed's posts | Damadam

Abeed's posts:

Abeed
 

یہ ہے شاعری ۔
بچے بھی ماں کی بات سے اب متفق نہیں
چولہا جلے تو گھر میں دھواں تک نہیں رہے
استاد محترم

Abeed
 

جہاں پیروں کے چھالے تک ٹھہر جانے کو کہتے ہیں
وہاں پر بھی مجھے آوارگی آواز دیتی ہے
ا ا ا

Abeed
 

آنے سے گر گریز ہے تصویر بھیج دے
چہرہ تو اس کا یاد دہانی میں آئے گا
استاد محترم

Abeed
 

یہ کہہ کے چھوڑ دیا دوستوں نے ساتھ مرا
خزاں کا ساتھ گوارا نہیں بہاروں کو
عبید رضا عباس

Abeed
 

آزمائش میں بس آخری دم رکھا ہے
ہم نے معیار محبت ذرا کم رکھا ہے
جسم ملبوس ضروری ہے عبادت کےلیے
ایک پوشاک نے غربت کا بھرم رکھا ہے
بلا لیتا ہے ملاقات کو ہمزاد اپنا
اتنا معبود نے بندے پہ کرم رکھا ہے
دل کی سوچو میں بھی شامل ہوئے احساس کے رنگ
اس گواہی میں سدا آنکھ کو نم رکھا ہے
کون کیسا ہے زمانے میں کسے علم "عبیدؔ"
کہیں دولت کہیں شہرت نے بھرم رکھا ہے
عبید رضا عباس

Abeed
 

داد لینے کا ہے سبب کوئی ؟
شعر اچھا ہوا ہے کب کوئی
نظر آتا نہیں سوا اس کے
آ بسا دل میں یوں عجب کوئی
میری نظروں میں یوں گرا ہے عبید
اس سے شکوہ نہیں ہے اب کوئی
عبید رضا عباس

Abeed
 

دو متفرق شعر ، جو مجھے بے انتہا پسند ہیں اور شاید ان جیسا شعر آج تک نہیں کہہ سکا ۔
مشکلوں میں ہمیں دے دی ہے صدا
اجنبی ہو کے، شناسا ہو تم
آزماتے ہو کٹھن مرحلوں میں
اجنبی ہو کے، شناسا ہو تم
عبیدؔ رضا عباس

Abeed
 

صرف اس کے ہونٹ کاغذ پر بنادیتا ہوں میں
خود بنالیتی ہے ہونٹوں پہ ہنسی اپنی جگہ
انور شعور

Abeed
 

جس کو کہتی ہے سُکھ کا پل , دنیا
زندگی اس کو ڈھونڈنے میں کٹی
عبید رضا عباس

Abeed
 

ہوا میں پھیلی ہوئی ہے خوشبو کسی کے گیسو کی
کسی کی اور سے شاید ہے یہ بلاوا سا
اسحاق اثر اندوری

Abeed
 

یہ کیا کہ ہم ہیں ترے مدح سرا بس
ہم جیسا کوئی دوسرا پاگل بھی نکلتا
ٹکڑوں میں ہوئی آپ کے چہرے کی زیارت
یہ چاند کسی روز مکمل بھی نکلتا
اسحاق اثر اندوری

Abeed
 

کیوں سناتے ہیں مجھے درسِ وفا ؟
سب فرشتے ہیں یہاں، میرے سوا ؟
عبیدؔ رضا عباس

Abeed
 

جسم لازم ہے ہر تعلق کو
بے معانی ہیں روح کی باتیں
عبید رضا عباس

Abeed
 

مصیبتوں سے تمام عمر واسطہ رہے گا
گر ان سے ڈر کے رہیں گے تو ہار جائیں گے
عبیدؔ رضا عباس

Abeed
 

بات بگڑی سنور بھی سکتی ہے
ایک موقع ہے گر سُدھر جاؤ
مجھ سے بہتر جو مِل رہے ہیں تمھیں
پہلی فرصت میں تم اُدھر جاؤ
جب تعلق نہیں رہا تو پھر
فرق پڑتا نہیں جِدھر جاؤ
سجل کانپوری

Abeed
 

کتنی انا ہے مجھ مِیں، ترا مسئلہ نہیں
تیرا غرور کم ہے ابھی اِس پہ غور کر
سجل کانپوری

Abeed
 

مجھے یہ حق نہیں مَیں سب کی نیکیاں تولوں
تمنا ہے کہ مَیں اب خود تو آئنہ ہو لوں
کروں گا بعد میں کچھ تذکرہ مرا تیرا
مَیں اپنے آپ سے پہلے تو رو برو ہو لوں
چپک گیا ہے یہ مزدور کے لبوں سے گلہ
سکونِ شب ہو میسر کبھی, تو مَیں سو لوں
یہاں ہر ایک کو خطرہ ہے جان جانے کا
ہر ایک بات کو کھولوں تو کس طرح کھولوں
سروں پہ تیغ کے سایوں کو دیکھ کر اکثر
عبید سوچتا رہتا ہے سچ کہاں بولو
عبید رضا عباس

Abeed
 

کیا اپنے منہ سے بڑائی کروں عبید اپنی
پکار مجھ کو مصیبت میں آزما تو سہی
عبید رضا عباس

Abeed
 

ان کے کرتوت ہی کچھ ایسے ہیں
مجھ کو غصہ عجب نہیں آتا
اس پہ درکار محنتیں ہیں تمھں
پل دو پل میں ادب نہیں آتا
چپ رہو فائدہ اسی میں ہے
فن تکلم کا جب نہیں آتا
اپنے اعمال کیجئے بہتر
بغض کے ہوتے رب نہیں آتا
سب کو ملتی محبتیں اپنی
درمیاں گر نسب نہیں آتا
سہہ رہے ہو غلط رویے کو
کیوں شکایت کا ڈھب نہیں آتا
میں تری بزم میں عبید کبھی
لے کر اپنی طلب نہیں آتا
عبید رضا عباس

Abeed
 

دل ہے ہر شے پہ کب نہیں آتا
سب کے حصے میں سب نہیں آتا
آدمی خاص لا بٹھایا ہے
تخت پر منتخب نہیں آتا
کیسے اس تک پکار پہنچے گی
نام جو زیرِ لب نہیں آتا
اصل پہچان ہو گئی اس کی
اس لیے خوف اب نہیں آتا
عبید رضا عباس