یہ ہے شاعری ۔
بچے بھی ماں کی بات سے اب متفق نہیں
چولہا جلے تو گھر میں دھواں تک نہیں رہے
استاد محترم
جہاں پیروں کے چھالے تک ٹھہر جانے کو کہتے ہیں
وہاں پر بھی مجھے آوارگی آواز دیتی ہے
ا ا ا
آنے سے گر گریز ہے تصویر بھیج دے
چہرہ تو اس کا یاد دہانی میں آئے گا
استاد محترم
یہ کہہ کے چھوڑ دیا دوستوں نے ساتھ مرا
خزاں کا ساتھ گوارا نہیں بہاروں کو
عبید رضا عباس
آزمائش میں بس آخری دم رکھا ہے
ہم نے معیار محبت ذرا کم رکھا ہے
جسم ملبوس ضروری ہے عبادت کےلیے
ایک پوشاک نے غربت کا بھرم رکھا ہے
بلا لیتا ہے ملاقات کو ہمزاد اپنا
اتنا معبود نے بندے پہ کرم رکھا ہے
دل کی سوچو میں بھی شامل ہوئے احساس کے رنگ
اس گواہی میں سدا آنکھ کو نم رکھا ہے
کون کیسا ہے زمانے میں کسے علم "عبیدؔ"
کہیں دولت کہیں شہرت نے بھرم رکھا ہے
عبید رضا عباس
داد لینے کا ہے سبب کوئی ؟
شعر اچھا ہوا ہے کب کوئی
نظر آتا نہیں سوا اس کے
آ بسا دل میں یوں عجب کوئی
میری نظروں میں یوں گرا ہے عبید
اس سے شکوہ نہیں ہے اب کوئی
عبید رضا عباس
دو متفرق شعر ، جو مجھے بے انتہا پسند ہیں اور شاید ان جیسا شعر آج تک نہیں کہہ سکا ۔
مشکلوں میں ہمیں دے دی ہے صدا
اجنبی ہو کے، شناسا ہو تم
آزماتے ہو کٹھن مرحلوں میں
اجنبی ہو کے، شناسا ہو تم
عبیدؔ رضا عباس
صرف اس کے ہونٹ کاغذ پر بنادیتا ہوں میں
خود بنالیتی ہے ہونٹوں پہ ہنسی اپنی جگہ
انور شعور
جس کو کہتی ہے سُکھ کا پل , دنیا
زندگی اس کو ڈھونڈنے میں کٹی
عبید رضا عباس
ہوا میں پھیلی ہوئی ہے خوشبو کسی کے گیسو کی
کسی کی اور سے شاید ہے یہ بلاوا سا
اسحاق اثر اندوری
یہ کیا کہ ہم ہیں ترے مدح سرا بس
ہم جیسا کوئی دوسرا پاگل بھی نکلتا
ٹکڑوں میں ہوئی آپ کے چہرے کی زیارت
یہ چاند کسی روز مکمل بھی نکلتا
اسحاق اثر اندوری
کیوں سناتے ہیں مجھے درسِ وفا ؟
سب فرشتے ہیں یہاں، میرے سوا ؟
عبیدؔ رضا عباس
جسم لازم ہے ہر تعلق کو
بے معانی ہیں روح کی باتیں
عبید رضا عباس
مصیبتوں سے تمام عمر واسطہ رہے گا
گر ان سے ڈر کے رہیں گے تو ہار جائیں گے
عبیدؔ رضا عباس
بات بگڑی سنور بھی سکتی ہے
ایک موقع ہے گر سُدھر جاؤ
مجھ سے بہتر جو مِل رہے ہیں تمھیں
پہلی فرصت میں تم اُدھر جاؤ
جب تعلق نہیں رہا تو پھر
فرق پڑتا نہیں جِدھر جاؤ
سجل کانپوری
کتنی انا ہے مجھ مِیں، ترا مسئلہ نہیں
تیرا غرور کم ہے ابھی اِس پہ غور کر
سجل کانپوری
مجھے یہ حق نہیں مَیں سب کی نیکیاں تولوں
تمنا ہے کہ مَیں اب خود تو آئنہ ہو لوں
کروں گا بعد میں کچھ تذکرہ مرا تیرا
مَیں اپنے آپ سے پہلے تو رو برو ہو لوں
چپک گیا ہے یہ مزدور کے لبوں سے گلہ
سکونِ شب ہو میسر کبھی, تو مَیں سو لوں
یہاں ہر ایک کو خطرہ ہے جان جانے کا
ہر ایک بات کو کھولوں تو کس طرح کھولوں
سروں پہ تیغ کے سایوں کو دیکھ کر اکثر
عبید سوچتا رہتا ہے سچ کہاں بولو
عبید رضا عباس
کیا اپنے منہ سے بڑائی کروں عبید اپنی
پکار مجھ کو مصیبت میں آزما تو سہی
عبید رضا عباس
ان کے کرتوت ہی کچھ ایسے ہیں
مجھ کو غصہ عجب نہیں آتا
اس پہ درکار محنتیں ہیں تمھں
پل دو پل میں ادب نہیں آتا
چپ رہو فائدہ اسی میں ہے
فن تکلم کا جب نہیں آتا
اپنے اعمال کیجئے بہتر
بغض کے ہوتے رب نہیں آتا
سب کو ملتی محبتیں اپنی
درمیاں گر نسب نہیں آتا
سہہ رہے ہو غلط رویے کو
کیوں شکایت کا ڈھب نہیں آتا
میں تری بزم میں عبید کبھی
لے کر اپنی طلب نہیں آتا
عبید رضا عباس
دل ہے ہر شے پہ کب نہیں آتا
سب کے حصے میں سب نہیں آتا
آدمی خاص لا بٹھایا ہے
تخت پر منتخب نہیں آتا
کیسے اس تک پکار پہنچے گی
نام جو زیرِ لب نہیں آتا
اصل پہچان ہو گئی اس کی
اس لیے خوف اب نہیں آتا
عبید رضا عباس
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain