نیا کچھ بھی نہیں تعارف میں
آپ اچھے ہیں اور برا ہوں میں
عبید رضا عباس
ایک شعر
۔
نجانے کون سے خدشے کو دل نے جا دے دی
بکھر کے پھر مری امید تار تار ہوئی
عبید رضا عباس
دکھ ہزاروں چھپا لیے اپنے
مل رہا ہوں ہنسی خوشی سب سے
ع ر ع
ساتھ چلنا مصلحت بھی اور مجبوری بھی ہے
راستہ تو کاٹنا ہے ہمسفر جیسا بھی ہو
نسیم نکہت
وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ۔
صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم
ہے تعلق تو انا چھوڑنی ہو گی اک دن
تجھ سے روٹھی ہوں تجھے آ کے منانا ہو گا
انجم رہبر
بنا ہے تختۂ گل ہائے یاسمیں بستر
ہوا ہے دستۂ نسرین و نسترن تکیہ
چچا غالب
گھر کیا ہے ، گھر کے لوگوں کو معلوم تک نہیں
ہر شخص اپنا حاشیہ لے کر سمٹ گیا
اسحاق اثر اندوری
کتنا پھیلے گا یہ اک وصل کا لمحہ آخر،
کیا سمیٹو گے کہ اک عمر کی تنہائی ہے۔
رضی اختر شوق
استاد محترم نے کیا خوب کہا تھا ۔
وفا کرے تو اسے روٹھنے کا حق بھی ہے
بس التفات کہاں تک جواب میں آئے
ہر کوئی اپنے فن میں طاق ہے ، سو
کیوں کسی سے مقابلہ کرنا
مشورہ سب سے کیجیے گا مگر
دل کی باتوں پہ اکتفا کرنا
بے ضمیروں کی دوستی ہے فضول
جتنا ممکن ہو فاصلہ کرنا
عبید رضا عباس
خوب سے خوب تر کی خواہش میں
اپنی وقعت بھی چھن گئی ہم سے
عبید رضا عباس
بھول جانے کو سمجھتا ہے گناہ
یاد کرتا ہے مرا دل اس کو
عبید رضا عباس
ہے شکایت مجھے اپنے دل سے
بھول پایا نہ مکمل اس کو
عبید رضا عباس
دکھ تو یہ ہے کہ تیرے بعد بھی ہم
بس ترے نام سے پکارے گئے
ع ر ع
لگ گئی ہے ہوا زمانے کی
تم بھی اپنا مفاد دیکھو گے
عبید رضا عباس
طنز کے تیر چلائے اور پھر
کہا از راہِ تفنن تھا یہ
عبید رضا عباس
لکمنی ہے نہ ہی مِیرَا ہے تُو
کیوں ترے نام کی مالا جپتے
عبید رضا عباس
اسے پلا کر وش کا پیالا پریم کی بھاشا بھول گئے
میرا کو بدنام کریں گے میرا کے گھر والے لوگ
جنت مکانی استاد محترم
دو شعر
کر رہے ہیں نصحیتیں لیکن
آپ خود کیوں عمل نہیں کرتے
۔ ۔ ۔
ذرا فرصت نہیں ہے رونے سے
ہم سکون ایک پل نہیں کرتے
عبید رضا عباس
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain