دامن میں یہ چند اشک ہی کافی ہیں مرے دوست
تحفے میں کوئی ساری خدائی نہیں دیتا
جونئیر بشیر بدر، خاور خان سرحدی
مرے وجود کو ہر امتحان کھینچتا ہے
ع ر ع
استفامیہ
اپنی خلقت پہ سوچنا نہیں کیا؟
آدمی کو غرور کس لیے ہے ؟
عبید رضا عباس
نظر آوں گا منفرد تجھ کو
مل کبھی مجھ سے خوش گواری میں
ع ر ع
زخم گنتے ہوئے عبید مجھے
یاد پھر مخلصوں کی آئی ہے
عبید رضا عباس
ایک نفیس شعر
رتجگوں کی انا نے پر کھولے
نیند روٹھی ہوئی ہے آنکھ کے ساتھ
عبید رضا عباس
کب نئی پود سے سوال ہوا
حال کیسا ہے ارتقا کے بعد
ع ر ع
خون باقی نہیں بدن میں ، اب
سانس در سانس دکھ چھلکتا ہے
عبید رضا عباس
تبصرے ختم ہوئے اس کے مگر
اس کی آنکھوں نے کہاں چپ سادھی
عبید رضا عباس
جی جلاتے ہیں اپنا سوچ کے ہم
کچھ نہ حاصل ہوا تمھارے بن
عبید رضا عباس
ٹھکرا دیتے ہیں لوگ سچا خلوص
چاہے چاہت کی انتہا کر دو
عبید رضا عباس
حد سے بڑھ کر کیں کوششیں لیکن
دل کی خواہش نہ ہو سکی پوری
ع ر ع