کون احساس کےلیے بولے
اپنی تذلیل کا مزا چھک کر
ع ر ع
نفع نقصان جاننے کے لیے
آزمائش تو شرط ہے پیارے
عبید رضا عباس
بے وجہ نام درندوں کا ہو گیا بدنام
کہ ڈر تو آدمی کو آدمی سے لگتا ہے
ع ر ع
کچھ تو سیکھے گا لازمی تجھ سے
تیری نفرت کو جھیلنے والا
عبید رضا عباس
رنگ باز اس میں خوش ہے ،پر دنیا
پارسا کےلیے جہنم ہے
عبید رضا عباس
ایک ہوتا تو پھر بھی خیر تھی پر
سو سبب تھے دل اوب جانے کے
ع ر ع
اندازہ مت لگائیں فقط اک نگہ میں آپ
ہوتے ہیں فیصلے غلط اکثر دماغ کے
ع ر ع
کیا اپنے منہ سے بڑائی کریں عبید اپنی
پکار ہم کو مصیبت میں آزما تو سہی
عبید رضا عباس
"ترا غرور میں لمحوں میں توڑ سکتا ہوں"
ع ر ع
دور رکھتا ہوں ذہن کو اس سے
اس کی خاطر جو نا مناسب ہے
ع ر ع
کسی کو شک کا مرض ہے ، تو ہو بلا سے مری
کسی کے سوچ پہ پہرا تو لگ نہیں سکتا
عبید رضا عباس
نازوں سے ہم پلے ہیں کہا اس نے آج پھر
دل سے جناب میری تمنا نکال دیں
عبید رضا عباس
کوشش کے باوجود نہ ہاتھ آئی ہے خوشی
قدرت نے دوریوں کا لکھا فاصلہ بہت
عبید رضا عباس
ہم غموں سے یوں جڑ گئے سائیں
رنگ خوشیوں کے اڑ گئے سائیں
عبید رضا عباس
نعت کا شعر
ترے حبیب ۖ کی قسمت بھی خوب قسمت ہے
تری جو ورد ہے صلی علی خدایے پاک
صلی اللہ علیہ والہ وسلم
عبید رضا عباس
قسمت دے پھیر دی کرم نوازیاں ۔ میتھوں ودھ کے ویکھیاں کیں ون ؟
عبید رضا عباس
ایک بہت سچا شعر پیش کرتا ہوں ملاحظہ فرمائیں،
بے وجہ نام درندوں کا ہو گیا بدنام
کہ ڈر تو آدمی کو آدمی سے لگتا ہے
عبید رضا عباس
دو متفرق اشعار
کر استعمال عقل کو پہلے ہی ٹھیک سے,
موقع گنوا کے ہاتھ سے افسوس کس لیے؟
۔۔ ۔۔۔
پہلے ہی کام عقل سے لے لے اگر عبیدؔ
منہ سے غلط نکال کے شرمندگی نہ ہو
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain