Damadam.pk
Abeed's posts | Damadam

Abeed's posts:

Abeed
 

کیا خبر اس کو عاجزی کی، جو
دب چکا ہے انا کے بوجھ تلے
ع ر ع

Abeed
 

"ہم کیوں کسی سوچ کے پر کتریں"
ع ر ع

Abeed
 

از راہ تفنن .a5
دل نشیں صورت ہے، نام اس کا حریم
کر دیا جس نے میرا جینا حرام
عبید رضا عباس

Abeed
 

پان خورے کو یہ ڈینٹسٹ نے بتلایا ہے
ڈایہ لیسز سے ترے منہ کی صفائی ہو گی
فیصل عزیز
.b1

Abeed
 

تم بھی ہو غالب کے شعروں کی طرح
کب سمجھ آتے ہو آسانی کے ساتھ
اعجاز نعمانی

Abeed
 

دکھائی بھی نہیں دیتی بیاں بھی ہو نہیں سکتی،
کسی کی زندگی میں کچھ کمی ایسی بھی ہوتی ہے۔
پروفیسر وسیم بریلوی

Abeed
 

نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا
گر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی نہ سہی
غالب

Abeed
 

بنا کر اپنی ذات کا عادی
اب عبید آنکھ کیوں چراتے ہیں
عبید رضا عباس

Sad Poetry image
A  🔥 : کر دیا مَیں نے خواب مِیں شکوہ ، آنکھ ملتے ہوئے غزل آئی۔ - 
Abeed
 

تلاش لائیے ایسا کوئی زمانے میں
بدن تھکن کو نہ محسوس کر سکے جس کا
ع ر ع

Abeed
 

رکھتا لحاظ آپ کا پر میں نشے میں ہوں

Abeed
 

غالب کی دقیق مرصع سازی
یک قدم وحشت سے دفتر امکاں کھلا
جادہ اجزائے دو عالم دشت کا شیرازہ تھا ۔
:نوٹ
اس شعر کو پڑھنے کے بعد لغت کا سہارا لینے والے بھی عبید کو بحور اور اوزان کا درس دیتے ہیں ۔

Abeed
 

اس کے بغیر آج بہت جی اداس ہے
جالب چلو کہیں سے اسے ڈھونڈ لائیں ہم
حبیب جالب

Abeed
 

قطعہ
تخلیق کائنات کو دیکھا ہے بارہا،
شبیر ع انتہا ہے خدا کے کمال کی
جب تک خدا (ج) رہے گا رہے گی حسینیت
کتنی دراز عمر ہے زہرا کے لال کی
شوکت رضا شوکت

Abeed
 

رباعی
عبرت ہے کہاں لوگو خالق کا ولی ہونا
عبرت ہے جہاں والوں بندے کا جلی ہونا
گر کوئی خلق ہو کر اکبر ع ہو تو حیرت کیا؟
حیرت ہے زمانے میں اصغر ع کا علی ہونا
سرکار علامہ غضنفر عباس تونسوی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ

Abeed
 

ابو الفصاحت سلطان العلما ، سلطان الشعرا جنت مکانی غضنفر عباس تونسوی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی ایک نظم کا بند ملاحظہ بفرمائید
۔
کچھ ماہ مکرم ہیں یہ فرمان ہے رب کا
اکرام بھی لازم ہے ہر ایک پہ سب کا
ویسے تو ہے چاروں میں ہر ماہ غضب کا
کچھ اور مقدر ہے مگر، ماہ رجب کا
کیا بات ہے اس شہرِ خدا گاہ میں لوگو
کتنے ہی علی (ع) اترے ہیں اس ماہ میں لوگو

Abeed
 

نہ جانے کتنے "دسمبر" چلے گئے آ کر
مگر وہ زخم ابھی تک ہرا سا لگتا ہے
استاد محترم اسحاق اثر اندوری

Abeed
 

ہم کو نہیں بھاتی کوئی اس دور کی لیلا
اجداد سے ورثے میں ملی ہیر پرانی
اور کچھ بھی نہیں پاس مرے تجھ پہ لٹاؤں
جاگیر کی صورت ہے وہ تصویر پرانی
بیٹی سے رواں اب تو جہالت کی روش ہے
جدّت بھرے ماحول میں تقدیر پرانی
پگڑی کبھی سرداری کبھی ذات کا رونا
پیروں میں پڑی ہے وہی زنجیر پرانی
یہ پاک وطن باقی جہاں عدل نہیں ہے
اقبال کے خوابوں کی ہے تعبیر پرانی
سب میرے بزرگوں کی دعاؤں کا اثر ہے
پائیں گے مری باتوں میں تاثیر پرانی
سجل کانپوری

Abeed
 

یونہی
۔
ایک حیرت بصارتوں میں دکھی
گل بدن سامنے تھا آنکھ کے جب

Abeed
 

دو متفرق اشعار ۔
نفرتوں کے امین ہو گئے وہ
جو محبت کی بات کرتے تھے
۔ ۔ ۔
ہاتھ آتی نہیں انھیں منزل
جو بھی مخلص کی مخلصی بھولے
عبید رضا عباس