وہ لا شریک جو قادر ہر ایک چیز پہ ہے بڑی توجہ سے اپنے عبید کو دیکھے جو مجھ پہ بیت رہی ہے وہ جانتا ہے مگر بدل نہیں رہا قسمت کی آزمائش کو وہ لا شریک کہ جس کا نصیب کو بدلنے پہ اختیار بھی ہے اسی کے رحم کا مدت سے انتظار بھی ہے وہ کن کہے تو مقدر میں جھرجھری آئے کوئی تو سانس مجھے بھی سکون کی آئے نہ پھر گلہ نہ شکایت نہ یہ دھائی ہو قدم قدم پہ مددگار کبریائی ہو۔ ۔ ع ر ع