کیا خبر اس کو عاجزی کی، جو
دب چکا ہے انا کے بوجھ تلے
ع ر ع
"ہم کیوں کسی سوچ کے پر کتریں"
ع ر ع
از راہ تفنن 
دل نشیں صورت ہے، نام اس کا حریم
کر دیا جس نے میرا جینا حرام
عبید رضا عباس
پان خورے کو یہ ڈینٹسٹ نے بتلایا ہے
ڈایہ لیسز سے ترے منہ کی صفائی ہو گی
فیصل عزیز

تم بھی ہو غالب کے شعروں کی طرح
کب سمجھ آتے ہو آسانی کے ساتھ
اعجاز نعمانی
دکھائی بھی نہیں دیتی بیاں بھی ہو نہیں سکتی،
کسی کی زندگی میں کچھ کمی ایسی بھی ہوتی ہے۔
پروفیسر وسیم بریلوی
نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا
گر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی نہ سہی
غالب
بنا کر اپنی ذات کا عادی
اب عبید آنکھ کیوں چراتے ہیں
عبید رضا عباس
تلاش لائیے ایسا کوئی زمانے میں
بدن تھکن کو نہ محسوس کر سکے جس کا
ع ر ع
رکھتا لحاظ آپ کا پر میں نشے میں ہوں
غالب کی دقیق مرصع سازی
یک قدم وحشت سے دفتر امکاں کھلا
جادہ اجزائے دو عالم دشت کا شیرازہ تھا ۔
:نوٹ
اس شعر کو پڑھنے کے بعد لغت کا سہارا لینے والے بھی عبید کو بحور اور اوزان کا درس دیتے ہیں ۔
اس کے بغیر آج بہت جی اداس ہے
جالب چلو کہیں سے اسے ڈھونڈ لائیں ہم
حبیب جالب
قطعہ
تخلیق کائنات کو دیکھا ہے بارہا،
شبیر ع انتہا ہے خدا کے کمال کی
جب تک خدا (ج) رہے گا رہے گی حسینیت
کتنی دراز عمر ہے زہرا کے لال کی
شوکت رضا شوکت
رباعی
عبرت ہے کہاں لوگو خالق کا ولی ہونا
عبرت ہے جہاں والوں بندے کا جلی ہونا
گر کوئی خلق ہو کر اکبر ع ہو تو حیرت کیا؟
حیرت ہے زمانے میں اصغر ع کا علی ہونا
سرکار علامہ غضنفر عباس تونسوی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ
ابو الفصاحت سلطان العلما ، سلطان الشعرا جنت مکانی غضنفر عباس تونسوی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی ایک نظم کا بند ملاحظہ بفرمائید
۔
کچھ ماہ مکرم ہیں یہ فرمان ہے رب کا
اکرام بھی لازم ہے ہر ایک پہ سب کا
ویسے تو ہے چاروں میں ہر ماہ غضب کا
کچھ اور مقدر ہے مگر، ماہ رجب کا
کیا بات ہے اس شہرِ خدا گاہ میں لوگو
کتنے ہی علی (ع) اترے ہیں اس ماہ میں لوگو
نہ جانے کتنے "دسمبر" چلے گئے آ کر
مگر وہ زخم ابھی تک ہرا سا لگتا ہے
استاد محترم اسحاق اثر اندوری
ہم کو نہیں بھاتی کوئی اس دور کی لیلا
اجداد سے ورثے میں ملی ہیر پرانی
اور کچھ بھی نہیں پاس مرے تجھ پہ لٹاؤں
جاگیر کی صورت ہے وہ تصویر پرانی
بیٹی سے رواں اب تو جہالت کی روش ہے
جدّت بھرے ماحول میں تقدیر پرانی
پگڑی کبھی سرداری کبھی ذات کا رونا
پیروں میں پڑی ہے وہی زنجیر پرانی
یہ پاک وطن باقی جہاں عدل نہیں ہے
اقبال کے خوابوں کی ہے تعبیر پرانی
سب میرے بزرگوں کی دعاؤں کا اثر ہے
پائیں گے مری باتوں میں تاثیر پرانی
سجل کانپوری
یونہی
۔
ایک حیرت بصارتوں میں دکھی
گل بدن سامنے تھا آنکھ کے جب
دو متفرق اشعار ۔
نفرتوں کے امین ہو گئے وہ
جو محبت کی بات کرتے تھے
۔ ۔ ۔
ہاتھ آتی نہیں انھیں منزل
جو بھی مخلص کی مخلصی بھولے
عبید رضا عباس
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain