غزل
دیے جلیں گے بجھیں گے ہوا کے آگے بھی
قدم تو رک نہیں سکتے فنا کے آگے بھی
خودی کا سجدہ نہ پہنچا درِ الہی تک
اڑا ہوا تھا کوئی سر انا کے آگے بھی
فقط زمین کی خبریں نہیں ہیں اپنے پاس
نگاہ رکھتے ہیں تحت الثریٰ کے آگے بھی
صدی کا کرب تو لمحے سمیٹ سکتے ہیں
پہنچ کے دیکھ سماعت صدا کے آگے بھی
فقیر لوگ متانت مزاج ہوتے ہیں
نہ خالی ہاتھ گئے ہم غنا کے آگے بھی
اثرؔ سوال کی زد پر نہیں ہوں تنہا مَیں
یہ مسئلہ تو رکھا ہے ہَوا کے آگے بھی
اسحاق اثر اندوری
ہم ملیں گے کہیں
اجنبی شہر کی خواب ہوتی ہوئی
شاہراہوں پہ
اور شاہراہوں پر پھیلی ہوئی دھوپ میں
ہم ملیں گے کہیں
کون و مکاں سے پرے غیر آباد سیارہء آرزو میں
صدیوں سے خالی پڑی پہنچ پر

ہم مِلیں گے
کِسی اور آسمان کے نیچے
خاک سے اٹے ہُوئے کِسی اٙن دیکھے دیار میں
اجنبی قیام گاہوں کے درمیان
موسلا دھار بارش میں
کِسی موڑ پر
لیمپ کی زرد روشنی کے نیچے
ٹین کی چٙھتوں کے مُسلسل شور میں
اور نہیں مِل پائیں گے شاید
ہمیشہ کی طرح!!

مری کوشش ہے اب بارہ مہینے دل ملے لیکن
مرے گیارہ مہینوں کو "دسمبر" مار دیتا ہے
جنت مکانی اسحاق اثر اندوری
بھیڑ سے بالکل الگ ہم بھی کھڑے ہیں دوستو
اپنے احساسات کے دفتر کا نذرانہ لیے
جنت مکانی"اسحاق اثر" اندوری رحمتہ اللہ علیہ
جانے یہ کس طرح کا تعلق ہے اس کے ساتھ
بچھڑا ہوا وہ شخص مجھے بھولتا نہیں
عبیدؔ رضا عباس
دوستو!
بارش نے کہاں کہاں زمین کو معطر کیا ؟؟
پہلے بتا رہا تھا زمانے کے جو فریب
پھر یوں ہوا کہ اس نے بھی رستہ بدل لیا
سجل کانپوری
ہم نے ایسے بھی شعر کہہ رکھے ہیں 
. .
جیون کی ٹھوکریں اسے چالاک کر گئیں
ایک شخص ہم مزاج تھا, پر اب نہیں رہا
سجل کانپوری
ہر فن مِیں ہوں مَیں طاق، مجھے کیا نہیں آتا ـ
استاد ذوق
پھول کی خوشبو چمن کا بانکپن تم میں رہے
تم جہاں بھی رہو اک انجمن تم میں رہے

ما یوازی مہ پریدہ مہ زا ۔
بے سبب ہے تری دوری مجھ سے
میں نے تصویر تو مانگی ہی نہیں

کسی نے کہا تھا
دل کو لگا کے لٹ جانا عشق ہے۔
تمام وصف بدن کے عبید ایک طرف
ہیں بے مثال مگر ان میں سرمئی آنکھیں
تیرے حصے کے دکھ خرید کے اب
ہر خوشی تیرے نام کرتے ہیں
ع ر ع