تمھارے جنم دن پر تمھارے نام ہے یہ نظم عکس دَر عکس ایک ویرانی آئنے کے اداس رنگوں میں تیری خوش بُو تلاش کرتی ہے سَـطر دَر سـطر پھیلتی چاہت نظم کی آخـری سـطُور میں بھی کتنے پہلو تلاش کرتی ہے اور ہم دن کی زرد شـاخـوں پر رات کے سـبز خـواب ڈھونڈتے ہیں آب زیرِ سـراب ڈھونڈتے ہیں امیـر ؔ حُســیـن جعفــری
اے لوگو! مجھے تمھارے بارے میں سب سے زیادہ دو باتوں کا ڈر ہے: ایک خواہشوں کی پیروی اور دوسرے امیدوں کا پھیلاؤ۔ خواہشوں کی پیروی وہ چیز ہے جو حق سے روک دیتی ہے اور امیدوں کا پھیلاؤ آخرت کو بھلا دیتا ہے۔ نہج البلاغہ خطبہ نمبر 42
تمام حمد اس اللہ کے لیے ہے ، جس کی مدح تک بولنے والوں کی رسائی نہیں، جس کی نعمتوں کو گننے والے گن نہیں سکتے، نہ کوشش کرنے والے اس کا حق ادا کر سکتے ہیں، نہ بلند پرواز ہمتیں اسے پا سکتی ہیں، نہ عقل و فہم کی گہرائیاں اس کی تہ تک پہنچ سکتی ہیں۔ اس کے کمالِ ذات کی کوئی حد معین نہیں، نہ اس کے لیے توصیفی الفاظ ہیں، نہ اس (کی ابتدا) کے لیے کوئی وقت ہے جسے شمار میں لایا جا سکے، نہ اس کی کوئی مدت ہے جو کہیں پر ختم ہو جائے۔ نہج البلاغہ خطبہ نمبر 1
امام علی علیہ السلام نے فرمایا ۔ یہ انسان تعجب کے قابل ہے کہ چربی سے دیکھتا ہے گوشت کے لوتھڑے سے بولتا ہے ہڈی سے سنتا ہے اور ایک سوراخ سے سانس لیتا ہے ۔
مانا کہ میں خدائےِ سخن میر بھی نہیں لیکن اسیرِ زلفِ گرہ گیر بھی نہیں مڑ مڑ کے اب قفس کی طرف دیکھتے ہو کیوں اب تو تمھارے پاؤں میں زنجیر بھی نہیں تو چاند ہو کے خوف زدہ جگنوؤں سے ہے حلانکہ روشنی تری جاگیر بھی نہیں ہم کیوں کسی مسیح کی نبضیں ٹٹولتے مرہم ہمارے زخموں کی توقیر بھی نہیں پھر بیچنے کو آ گئے شاطر دکان دار وہ خواب جن کی اب کوئی تعبیر بھی نہیں معصوم اصغروں کا بدن چھیدتا ہے کیوں اس کربلا میں اب کوئی شبیر بھی نہیں مت میرؔ جی کے نام سے منسوب کر "اثرؔ" یہ شعر اس مزاج کی تصویر بھی نہیں خاک پائے بزرگانِ ادب جنت مکانی "اسحاق اثرؔ" اندوری
جنت مکانی استاد محترم اسحاق اثر اندوری ۔ ۔ ۔ بہہ گیا خواہشوں کے دھارے میں آدمی ہے بڑا خسارے میں چاند تاروں پہ تجربے والے کچھ خبر بھی ہے اپنے بارے میں ہو گئی گم صلاحیت اپنی اینٹ , مٹی میں اور گارے میں یہ شعور و نظر کی باتیں ہیں فرق ہے آپ میں, ہمارے میں بات ہرگز نہ کھول کر کہنا جو بھی کہنا وہ استعارے میں