Damadam.pk
Abeed's posts | Damadam

Abeed's posts:

Abeed
 

تمھارے جنم دن پر تمھارے نام ہے یہ نظم
عکس دَر عکس ایک ویرانی
آئنے کے اداس رنگوں میں
تیری خوش بُو تلاش کرتی ہے
سَـطر دَر سـطر پھیلتی چاہت
نظم کی آخـری سـطُور میں بھی
کتنے پہلو تلاش کرتی ہے
اور ہم دن کی زرد شـاخـوں پر
رات کے سـبز خـواب ڈھونڈتے ہیں
آب زیرِ سـراب ڈھونڈتے ہیں
امیـر ؔ حُســیـن جعفــری

Abeed
 

N♥️ N.N5
17 دسمبر
تمھارے حق میں سب اچھی دعائیں
خدا روشن رکھے چہرا تمھارا

Abeed
 

اے لوگو! مجھے تمھارے بارے میں سب سے زیادہ دو باتوں کا ڈر ہے: ایک خواہشوں کی پیروی اور دوسرے امیدوں کا پھیلاؤ۔ خواہشوں کی پیروی وہ چیز ہے جو حق سے روک دیتی ہے اور امیدوں کا پھیلاؤ آخرت کو بھلا دیتا ہے۔
نہج البلاغہ خطبہ نمبر 42

Abeed
 

تمام حمد اس اللہ کے لیے ہے ، جس کی مدح تک بولنے والوں کی رسائی نہیں، جس کی نعمتوں کو گننے والے گن نہیں سکتے، نہ کوشش کرنے والے اس کا حق ادا کر سکتے ہیں، نہ بلند پرواز ہمتیں اسے پا سکتی ہیں، نہ عقل و فہم کی گہرائیاں اس کی تہ تک پہنچ سکتی ہیں۔ اس کے کمالِ ذات کی کوئی حد معین نہیں، نہ اس کے لیے توصیفی الفاظ ہیں، نہ اس (کی ابتدا) کے لیے کوئی وقت ہے جسے شمار میں لایا جا سکے، نہ اس کی کوئی مدت ہے جو کہیں پر ختم ہو جائے۔
نہج البلاغہ خطبہ نمبر 1

Abeed
 

عادت کیسی بھی ہو چھوڑی جا سکتی ہے ۔

Abeed
 

امام علی علیہ السلام نے فرمایا ۔
یہ انسان تعجب کے قابل ہے کہ چربی سے دیکھتا ہے گوشت کے لوتھڑے سے بولتا ہے ہڈی سے سنتا ہے اور ایک سوراخ سے سانس لیتا ہے ۔

Abeed
 

خشکی اور تری میں جو بھی فساد ہیں وہ خود انسان کے اپنے ہی ہاتھ کی کمائی ہے۔
سورہ الروم

Abeed
 

ایک لڑکا تھا دیوانہ سا ہر لڑکی پہ وہ مرتا تھا چوری چوری سب کو میسج کرتا تھا ۔ .a5😂😝

Abeed
 

رہِ امید کی ڈھلوان کا بھروسا کیا
عقیل، دھیان سے پاؤں پھسل بھی سگتا ہے
سید عقیل محسن نقوی

Abeed
 

ایک ہی شخص ہے جو مُجھ کو سمجھ سکتا ہے
اور وُہ کچھ بھی سمجھتا ہی نہیں ھے مجھ کو
رفیع رضا

Abeed
 

تجھ سے دوری میں بھی خوش رہتا ہوں پہلے کی طرح
بس کسی وقت برا لگتا ہے تنہا ہونا
احمد مشتاق

Abeed
 

میں الجھ کر اپنے ہاتھوں کی لکیروں سے امید،
ایک مدت سے ہوں اپنے آپ سے روٹھا ہوا ۔
راء امید علی امید

Abeed
 

ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک تھی نا پسند
گستاخیِ فرشتہ ہماری جناب میں
غالبؔ

Abeed
 

آئنہ یہ تو بتاتا ہے کہ میں کیا ہوں مگر
آئنہ اس پہ ہے خاموش کہ کیا ہے مجھ میں
کرشن بہاری نور

Abeed
 

اس قدر ٹھنڈ، وہ بھی بغیر بارش کے ۔

Abeed
 

مانا کہ میں خدائےِ سخن میر بھی نہیں
لیکن اسیرِ زلفِ گرہ گیر بھی نہیں
مڑ مڑ کے اب قفس کی طرف دیکھتے ہو کیوں
اب تو تمھارے پاؤں میں زنجیر بھی نہیں
تو چاند ہو کے خوف زدہ جگنوؤں سے ہے
حلانکہ روشنی تری جاگیر بھی نہیں
ہم کیوں کسی مسیح کی نبضیں ٹٹولتے
مرہم ہمارے زخموں کی توقیر بھی نہیں
پھر بیچنے کو آ گئے شاطر دکان دار
وہ خواب جن کی اب کوئی تعبیر بھی نہیں
معصوم اصغروں کا بدن چھیدتا ہے کیوں
اس کربلا میں اب کوئی شبیر بھی نہیں
مت میرؔ جی کے نام سے منسوب کر "اثرؔ"
یہ شعر اس مزاج کی تصویر بھی نہیں
خاک پائے بزرگانِ ادب
جنت مکانی "اسحاق اثرؔ" اندوری

Abeed
 

جنت مکانی استاد محترم اسحاق اثر اندوری
۔ ۔ ۔
بہہ گیا خواہشوں کے دھارے میں
آدمی ہے بڑا خسارے میں
چاند تاروں پہ تجربے والے
کچھ خبر بھی ہے اپنے بارے میں
ہو گئی گم صلاحیت اپنی
اینٹ , مٹی میں اور گارے میں
یہ شعور و نظر کی باتیں ہیں
فرق ہے آپ میں, ہمارے میں
بات ہرگز نہ کھول کر کہنا
جو بھی کہنا وہ استعارے میں

Abeed
 

الُحٙمّدُ لِلّٰهِ الّٙذِی جٙعٙلٙنامِنٙ الُمُتٙمٙسّکینٙ بِوِلایٙتہِ اٙمِیرِالُمُوٙمِنینٙ علیؑ ابنِ ابی طالب صِلوٙاةُ اللّه .

Abeed
 

20 جمادی الثانی
نزول سیدہ کائنات سلام اللہ علیہا کی بہت بہت مبارک باد

Abeed
 

کس قدر کارِ اذیت ہے ذرا سوچو تو
جس نے ملنا ہی نہیں اس کی تمنا کرنا
🦋