ہو تماشہ , وہیں لگ جاتا ہے خلقت کا ہجوم
بھیڑ بسنے سے کوئی دیس نہیں بن جاتا
سجل کانپوری
اک خوشی کی کاغذی کشتی بچی ہے میرے پاس،
اور اداسی کا سمندر پار کرنا ہے مجھے۔
اکھل راج اندوری
موت بیچاری کیسے ڈھونڈے گی
میں تو گمنام ہوچکا ہوں اب
اکھل راج اندوری
لوگ کہتے رہیں بھلے کچھ بھی
مست ہیں ہم تو اپنی ہستی میں
ع ر ع
دستک بھی دیتے ہیں اور تھک جاتے ہیں
پیر ہمارے اس حد میں رک جاتے ہیں
ہر سپنا دہلیز سے لوٹا ہے
ہم کائر بس دروازے تک جاتے ہیں
منیکا دوبے
چلنا ہے شرط ، راستہ مشکل بھلے ہی ہو
یہ جو راستے ہیں جدا جدا
یہ معاملہ کوئی اور ہے ۔
خدا محفوظ رکھے بلاؤں سے،
دن جوانی کے آئے ہوئے ہیں ـ
زندگی خواب ہے بیداری بھی
بے وقوفی بھی سمجھداری بھی
اقبال بیزار
گرہ
منصف مجھے کہتے ہیں مرے حال پہ ہنس کر
"احساس کو اب دل میں سلا کیوں نہیں دیتے"
ع ر ع
وت سنڑے ھن میں دھیدھرے اس دے
وت او پیراں نوں نپ کھلوتا اے
عبید رضا عباس
صاحب!
یہ پہلا دکھ ہے کہ مجھے جانتا نہیں کوئی
اور
۔ دوسرا اسے ہر دوسرا میسر ہے
سفینہ سانس کا تھمتا نہیں روانی میں
بہے چلو کہ مزا آ رہا ہے پانی میں
پروفیسر مظفر حنفی
شوق دیدار کبریا کا ہے اور
تاب رکھتے نہیں تجلی کی
ع ر ع
ایڈمن ، گالیاں بکنے والوں کو پکا پکا بین کیوں نہیں کرتا۔
اس کی منافقت سمجھ سے بالا تر ہے ۔
جن سے محبت ہو پھر ان سے شکایت نہیں کی جاتی ۔