Damadam.pk
Abeed's posts | Damadam

Abeed's posts:

Abeed
 

🚭

Abeed
 

ہاتھ الجھے ہوئے ریشم میں پھنسا بیٹھے ہیں ،
اب بتا کون سے دھاگے کو جدا کس سے کریں ۔

Abeed
 

آنکھ کاجل سے ہو گئی محروم
دل جناب آپ کا بیزار ہے کیوں ؟
ع ر ع

Abeed
 

اس کو بھنورے نصیب میں آئے
جو ہے حساس تتلیوں کی طرح
ع ر ع

Abeed
 

جو صلاحتیں عبید میں ہیں
چھین سکتے نہیں جہاں والے

Abeed
 

دو متفرق اشعار
چھان کر دشت و بیاباں دیکھے
پر کوئی تجھ سا دوسرا نہ ملا
۔۔۔
مانگتے ہیں یہی دعا ہر وقت
اب کوئی دوسرا نہ تجھ سا ملے
ع ر ع

Abeed
 

دن کے آسیب سے بھی رکھ محفوظ
رات کے شر سے بھی حفاظت کر
مجھ کو یا رب منافقوں سے بچا
حاسدوں سے مری حفاظت کر
شاہد انجم

Abeed
 

جنت و دوزخ تو دونوں اہرمن کی ملکیت ہیں
کس جگہ تو جائے گا ، اے ستیہ پال آنند بول
سورگ واسی ستیہ پال آنند

Abeed
 

حقیقت سے بھلا منہ موڑنا کیا
بہت نقصان اس ضد سے ہوئے ہیں
عبید رضا عباس

Abeed
 

میں کسی کی پوسٹ لائیک نہیں کرتا .p6

Abeed
 

جیسے خواہش عبید رکھتے تھے
زندگی یوں بسر نہ ہو پائی

Abeed
 

کسی کی نذر ہے
جنھاں دے کُولوں نہ بھل کے وی چنگی گَل نکلے
نصیب ویکھ اُو بندے وِلَا کے رَکھنڑے پئے
راء امیدؔ علی امید

Abeed
 

طبیعی دنیا کی ارتقا چار عناصر (ہوا، پانی ، مٹی اور آگ) کے باہمی تعامل سے ہوئی
ایوان کارل وان لنے

Abeed
 

روٹھے ہو تو مجھ پر کوئی تہمت نہ لگانا
کس کس کو بتاؤں گا، "میں ایسا تو نہیں ہوں" ۔

Abeed
 

ترمیم کی ہے اصل شعر میں
۔
مثل سانس بسے ہو تم میں
چھوڑ پانا تمھیں آساں تو نہیں
سجل کانپوری

Abeed
 

بعد مدت کے خطا یاد تو آئی لیکن
اب گئے وقت پہ افسوس میں رکھا کیا ہے ؟
عبید رضا عباس

Abeed
 

.b1 .d1 .a5
زبان مادری پوچھی جو اک لڑکے سے کالج میں
تو وہ بولا نہیں مجھکو پتا کیا ہے زباں میری
اگر سچ جاننا چاہیں تو سنیے ماسٹر صاحب
زبان مادری کچھ بھی نہیں گونگی ہے ماں میری
عاصم پیرزادہ

Abeed
 

"انتخاب"
دو چار بات ہوتی تو سہنا بھی ٹھیک تھا
اب سوچتا ہوں آپ کا کہنا بھی ٹھیک تھا
پوشاک سے ضمیر کی قیمت نہیں رہی
تیور تو زندگی کا برہنہ بھی ٹھیک تھا
شہرت کے بھاؤ تاؤ نے چونکا دیا مجھے
یوں دیکھنے کی حد میں یہ گہنا بھی ٹھیک تھا
دونوں طرف زبان کی تلوار کھنچ گئی
خاموش میرا ایسے میں رہنا بھی ٹھیک تھا
جو چھیننے کو آئی تھی بینائیاں مری
اس روشنی کا آنکھوں سے بہنا بھی ٹھیک تھا
پہچاننے میں کس لیے دھوکہ ہوا "اثر"
چشمہ تو میری آنکھوں نے پہنا بھی ٹھیک تھا
آبروئے غزل جنت مکانی حضرت "اسحاق اثر" اندوری

Abeed
 

گفتگو تو سحر نہیں آتی
ہاں وضاحت تراش لیتے ہیں
سحر تاب رومانی

Abeed
 

یونہی ۔۔۔
کھو چکا ہے
جو مقدر سے
بڑی مدت سے انتظار اس کا دل کیے جاتا ہے
اس کے جانے کو مانتا ہی نہیں
دل کو معلوم ہی نہیں
جانے والوں نے واپس آنا نہیں
ہچکیاں، آہیں، آنسو سب بیکار
بھول جانے کا دل کو
مشورہ دے رہا ہوں
جو گیا سوچ کر گیا ہے کچھ
اب کے آنا عبید اس کا
سمجھو ناممکنات میں شامل
دل اسے بھول اور بڑا کر دل
بھول بیٹھا ہو گا تجھے اب تک
جس کی بے سود راہ دیکھتا ہے
بڑا پاگل ہے
بے وفاؤں کی چاہ رکھتا ہے ۔
عبید رضا عباس