ہاتھ کے گنگن پاؤں کے پےجَن سب کچھ گروی رکھے ہیں وقت نے سارے قرضے پھر بھی ہم پر باقی رکھے ہیں روز کے ملنے جلنے والوں کا بھی ملنا جلنا چھوٹ گیا جب سے ہم لوگوں نے گھر میں لا کر ٹی-وی رکھے ہیں ہم بھی کبھی دریا تھے اس کا ذکر کرنا بھی جرم ہوا صرف ہماری پیاس کے قصے وادی وادی رکھے ہیں آنسو کہہ لو گل کہہ لو یا کہہ لو پیمانہ دل کے دو حرفوں میں ہم نے کتنے معانی رکھے ہیں اسحاق اثرؔ اندوری
فی البدیہہ ملنا ترا محال ہے مَیں جانتا ہوں پر آنکھیں تری تلاش میں بھٹکیں ہیں بدر نقصان ہو چکا ہے جو ہونا تھا ایک بار ہوتے ہیں اشک بار تجھے پھر سے سوچ کر کاغذ کی کشتیاں لیے بچپن کی آرزو پھر سے جواں ہوئی مرے ہاتھوں کو تھام کر بھاری لگے ہے زندگی اتنی کہ پوچھ مت جب چھوڑے بیچ راہ مسافر کو ہم سفر اور بھی تو سینکڑوں ہوں گے مجھ سے حسین لوگ ایسی بھی کیا کمی ہے، میں حاصل نہیں اگر ایمان اک خدا پہ عقیدے جدا جدا مرضی سے کر رہے ہیں روایت ادھر اُدھر قابیل کے مزاج میں یوسف کے ویر ہیں اس واسطے نہیں ہے بھروسہ عبیدؔ پر عبید رضا عباس
ہمارا شعری سلسلہ ... ولی دکنی , مرزا محمد علی صائب تبریزی شیخ ظہور الدین حاتم , مرزا رفیع سودا , خواجہ میر درد شاہ محمدی مائل شاہ نصیر دہلوی شیخ محمد ابراہیم ذوق داغ دہلوی مظفر علی اسیر لکھنوی , امیر مینائی, مضطر خیر آبادی , سیماب اکبر آبادی ساغر نظامی اسحاق اثر اندوری اور یہ خاک پائے اساتذہ
حمد خلاقِ دو عالم سوز بھی ساز بھی ہر نغمہ سرائی تیری ذرے ذرے پہ جہاں کے ہے خدائی تیری میرا احساس تو چھو بھی نہ سکا عکس ترا میں نے لفظوں سے ہی تصویر بنائی تیری روشنی تیری ہی رہتی ہے نبردِ بینا دی ہے کانوں کو بھی آواز سنائی تیری ہونٹ ہلتے ہیں تو بس تیری عنایت کے سبب کیسے الفاظ کریں شکر ادائی تیری میری تنگی مری آسودگی سب تیری عطا مجھ کو مخلوق میں حاصل ہے گدائی تیری اس کے قدموں سے لپٹ جاتی ہے منزل آ کر جس کو مل جائے اگر راہنمائی تیری اک طرف میری دعا ایک طرف بابِ اثرؔ دونوں دیتے رہے ہونٹوں سے دہائی تیری "اسحاق اثرؔ اندوری"