طرحی قطعہ
خوب سے بھی خوبصورت دیکھ لی
اک عجب، مٹی کی مورت دیکھ لی
کیا کرے گا روشنی پا کر کہ وہ
"چاند سی جس نے وہ صورت دیکھ لی"
عبید رضا عباس
ہو گیا خوشحال یوسف کی طرح
جس نے اپنوں کی عنایت دیکھ لی
عبید رضا عباس
"تعارف میں نیا کچھ بھی نہیں ہے"
کھیلتے داو پیچ ہم سے عبید
ہم نے موقع نہ ایسا آنے دیا
عبید رضا عباس
اے لوگو
یونہی تو بڑھ نہیں رہے ظلمات بے شمار
شہرِ ستم گراں ہے کوئی بولتا نہیں
عبید رضا عباس
موسم عداوتوں کا ہے اس کا سرور لیں
الفت کا تذکرہ یہاں بالکل نہ کیجیے
عبید رضا عباس