Damadam.pk
Abeed's posts | Damadam

Abeed's posts:

Abeed
 

آج یہاں جس جس کو ستایا
اس کے لیے معافی چاہتا ہوں
ـ

Abeed
 

آج صبح سے بہت خطرات مول لے چکا ہوں ـ
اللہ رحم کرے ـ

Abeed
 

سچا شعر ـ
مغرور ذرا دور رہیں مجھ سے تو بہتر
نخرے تو مجھے آپ بھی اچھے نہیں لگتے
ــ
عبید رضا عباس

Abeed
 

بے سبب کم بولتا ہوں اور مجھے
کم بھی بھاتے ہیں بولنے والے
ع ر ع

Abeed
 

ایک مکار کو بھی یاد رکھے
ذہن اور اس کی ذہانت کا کمال
عبید رضا عباس

Abeed
 

اسی طرح مَیں ایک شادی پہ جا رہا تھا کہ بس میں آخری سیٹ ملی اور میری بدنصیبی کہ میرے ساتھ ایک آدمی چھوڑ کر ایک [خواجہ سرا] آ دھمکا،
کچھ سفر کٹا تو اس نے اپنے پرس سے ایک سگریٹ نکالا اور درمیان والے سے جلانے کےلیے کچھ طلب کیا لیکن کچھ نہ ملا (مَیں جو کہ شادی پہ جا رہا تھا آتش بازی کےلیے لائیٹر لے رکھا تھا) جیب سے لائیٹر نکال کر دیا تو خواجہ سرا نے سگریٹ سلگائی اور لائیٹر پکڑانے کے بجائے میری جانب پھینک دی اور بھاشن بازی بھی شروع کر دی ـ
میں نے جب پھینکنے کی وجہ پوچھی تو سیدھا جواب دینے کے بجائے کہا اپنڑا کم کرو (اپنا کام کرو ) ہ
خیر مَیں چپ ہو گیا ـ
نتیجہ
نیکی کا حال نہیں ـ

Abeed
 

مَیں عید پہ ایک استاد شاعر کو عید ملنے گیا اور اتفاقاً وہاں پہلے سے ایک گلوکار آیا ہوا تھا گیت لینے کے لیے ـ
میں نے گلوکار کو ہاتھ بڑھایا سلام کے لیے اور عید مبارک کہی لیکن اللہ جانے اس گلوکار کو کس بات کا نشہ تھا کہ دو انگلیاں آگے بڑھائیں ـ
خیر مَیں نے بعد میں ان استاد شاعر سے کہا کہ بڑا ہی مغرور آدمی ہے اسے گیت مت دیجیے،.
آگے سے استاد شاعر نے کہا
تم ابھی بچے ہو ان رمزوں کو نہیں سمجھتے ـ
نتیجہ ـ کچھ لوگوں میں نخرہ اس قدر ہوتا ہے کہ گدھا بھی نہ اٹھائے ـ

Abeed
 

عقل کہتی ہے، مگر کون سنے?
فائدہ کچھ نہیں نادانی کا
عبید رضا عباس

Abeed
 

کجھ مہارت ہووس جے پرکھݨ دی
اکھ تا لحظے دی ڈھل وی نئیں لیندی
ـ
عبید رضا عباس

Abeed
 

رکھا ہے باگٍ مصیبت کو تھام کر ایسے
قدم محاذ پہ ہرگز نہ لڑکھڑائے ہیں
عبید رضا عباس

Abeed
 

پھول کے ساتھ خار جیسا ہے
استعارے کا استعارہ ہے
عبید رضا عباس

Abeed
 

نخرے ترے کمال ہیں لیکن اے دل نشیں
ہم کو خود اپنے ناز بھی بھاتے نہیں بہت
عبید رضا عباس

Abeed
 

مداری لوگ کرتب دکھا سکتے نہ کہ محبت.

Abeed
 

اتنی آساں پہیلیاں مت پوچھ
مجھ سے لا علم تو نہیں ہو تم
عبید رضا عباس

Abeed
 

سوچ یہ بھی تو تَن جلائے ہے
کٹ نہ جائے حیات رنجش میں
ـ
عبید رضا عباس

Abeed
 

شب کٹی رو کے اذیت میں مری
دن بھی پھر درد لیے آیا ہے
عبید رضا عباس

Abeed
 

کتنے برسوں سے کہہ رہے ہیں عبید
آج بھی آنکھ انتظاری ہے
ع ر ع

Abeed
 

شعر .
.
عبید اپنے کہے پر سدا کھرے اترے
تبھی تو جانچنے والوں بھی جھک کے آئے ہے
عبید رضا عباس

Abeed
 

دل پہ لکھ لیجیے یہ بات ہماری بے شک
کچھ نہ پائیں گے مشقت کے عوض لوگوں سے

Abeed
 

اپنا پسندیدہ شعر
.....
دیکھ دنیا کی چال بازی کو
آپ بھی بد گمان ہو جاتے
._.
عبید رضا عباس