آج یہاں جس جس کو ستایا
اس کے لیے معافی چاہتا ہوں
ـ
آج صبح سے بہت خطرات مول لے چکا ہوں ـ
اللہ رحم کرے ـ
سچا شعر ـ
مغرور ذرا دور رہیں مجھ سے تو بہتر
نخرے تو مجھے آپ بھی اچھے نہیں لگتے
ــ
عبید رضا عباس
بے سبب کم بولتا ہوں اور مجھے
کم بھی بھاتے ہیں بولنے والے
ع ر ع
ایک مکار کو بھی یاد رکھے
ذہن اور اس کی ذہانت کا کمال
عبید رضا عباس
اسی طرح مَیں ایک شادی پہ جا رہا تھا کہ بس میں آخری سیٹ ملی اور میری بدنصیبی کہ میرے ساتھ ایک آدمی چھوڑ کر ایک [خواجہ سرا] آ دھمکا،
کچھ سفر کٹا تو اس نے اپنے پرس سے ایک سگریٹ نکالا اور درمیان والے سے جلانے کےلیے کچھ طلب کیا لیکن کچھ نہ ملا (مَیں جو کہ شادی پہ جا رہا تھا آتش بازی کےلیے لائیٹر لے رکھا تھا) جیب سے لائیٹر نکال کر دیا تو خواجہ سرا نے سگریٹ سلگائی اور لائیٹر پکڑانے کے بجائے میری جانب پھینک دی اور بھاشن بازی بھی شروع کر دی ـ
میں نے جب پھینکنے کی وجہ پوچھی تو سیدھا جواب دینے کے بجائے کہا اپنڑا کم کرو (اپنا کام کرو ) ہ
خیر مَیں چپ ہو گیا ـ
نتیجہ
نیکی کا حال نہیں ـ
مَیں عید پہ ایک استاد شاعر کو عید ملنے گیا اور اتفاقاً وہاں پہلے سے ایک گلوکار آیا ہوا تھا گیت لینے کے لیے ـ
میں نے گلوکار کو ہاتھ بڑھایا سلام کے لیے اور عید مبارک کہی لیکن اللہ جانے اس گلوکار کو کس بات کا نشہ تھا کہ دو انگلیاں آگے بڑھائیں ـ
خیر مَیں نے بعد میں ان استاد شاعر سے کہا کہ بڑا ہی مغرور آدمی ہے اسے گیت مت دیجیے،.
آگے سے استاد شاعر نے کہا
تم ابھی بچے ہو ان رمزوں کو نہیں سمجھتے ـ
نتیجہ ـ کچھ لوگوں میں نخرہ اس قدر ہوتا ہے کہ گدھا بھی نہ اٹھائے ـ
عقل کہتی ہے، مگر کون سنے?
فائدہ کچھ نہیں نادانی کا
عبید رضا عباس
کجھ مہارت ہووس جے پرکھݨ دی
اکھ تا لحظے دی ڈھل وی نئیں لیندی
ـ
عبید رضا عباس
رکھا ہے باگٍ مصیبت کو تھام کر ایسے
قدم محاذ پہ ہرگز نہ لڑکھڑائے ہیں
عبید رضا عباس
پھول کے ساتھ خار جیسا ہے
استعارے کا استعارہ ہے
عبید رضا عباس
نخرے ترے کمال ہیں لیکن اے دل نشیں
ہم کو خود اپنے ناز بھی بھاتے نہیں بہت
عبید رضا عباس
مداری لوگ کرتب دکھا سکتے نہ کہ محبت.
اتنی آساں پہیلیاں مت پوچھ
مجھ سے لا علم تو نہیں ہو تم
عبید رضا عباس
سوچ یہ بھی تو تَن جلائے ہے
کٹ نہ جائے حیات رنجش میں
ـ
عبید رضا عباس
شب کٹی رو کے اذیت میں مری
دن بھی پھر درد لیے آیا ہے
عبید رضا عباس
کتنے برسوں سے کہہ رہے ہیں عبید
آج بھی آنکھ انتظاری ہے
ع ر ع
شعر .
.
عبید اپنے کہے پر سدا کھرے اترے
تبھی تو جانچنے والوں بھی جھک کے آئے ہے
عبید رضا عباس
دل پہ لکھ لیجیے یہ بات ہماری بے شک
کچھ نہ پائیں گے مشقت کے عوض لوگوں سے
اپنا پسندیدہ شعر
.....
دیکھ دنیا کی چال بازی کو
آپ بھی بد گمان ہو جاتے
._.
عبید رضا عباس
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain