آتشِ غم نے ملکِ دل پھونک دیا، جلا دیا ....🔥
باقی جو کچھ کہ رہ گیا اشک نے لے بہا دیا ....😊
ڈُبڈُبائی ہوئی آنکھوں
تُمہیں اَشکوں کی قسم ....🙏
کُھل نہ جائے کہیں اُلفت کا بھرم سو جاؤ ....💔🔥
وجود کی بساط پر بڑی عجیب مات تھی۔
یقین لٹاکے چل پڑے گمان بچاکے رکھ لیا
یوں ہی مر مر کے جئیں وقت گزارے جائیں
زندگی ہم ترے ہاتھوں سے نہ مارے جائیں
اب زمیں پر کوئی گوتم نہ محمد نہ مسیح
آسمانوں سے نئے لوگ اتارے جائیں
وہ جو موجود نہیں اس کی مدد چاہتے ہیں
وہ جو سنتا ہی نہیں اس کو پکارے جائیں
باپ لرزاں ہے کہ پہنچی نہیں بارات اب تک
اور ہم جولیاں دلہن کو سنوارے جائیں
ہم کہ نادان جواری ہیں سبھی جانتے ہیں
دل کی بازی ہو تو جی جان سے ہارےجائیں
تج دیا تم نے درِ یار بھی اُکتا کے فرازؔ
اب کہاں ڈھونڈھنے غم خوار تمہارے
اوجھل سہی نِگاہ سے ڈوبا نہیں ہوں میں
اے رات ہوشِیار کہ ہارا نہیں ہوں میں
خوابوں کی سبز دُھند سی ہے ابھی ہر طرف
لگتا ہے یوں کہ نیند سے جاگا نہیں ہوں میں
اک حرفِ حیراں سہی مانا میرا وجود
کیسے کہوں کتاب کا حصہ نہیں ہوں میں
درپیش صبح و شام یہی کَشمکش ہے اب
اس کا بنوں میں کیسے کہ اپنا نہیں ہوں میں
مجھ کو فرشتہ ہونے کا دعوٰی نہیں مگر
جتنا برا سمجھتے ہو اتنا نہیں ہوں میں
اِس طرح پھیر پھیر کے باتیں نہ کیجیئے
لہجے کا رخ سمجھتا ہوں بچہ نہیں ہوں میں
ممکن نہیں ہے مجھ سے یہ طرزِ منافقت
دنیا تیرے مزاج کا بندہ نہیں ہوں میں
”اَمجد” تھی بھیڑ ایسی کہ چلتے چلے گئے
گرنے کا ایسا خوف تھا ٹِھرا نہیں ہوں میں
سہمی ہوئی ھے جھونپڑی بارش کے خوف سے
مَحلوں کی آرزو ھے کہ برسات تیز ہو
جہان، رقص کُناں ہے کہ دُھن محبت ہے
نظامِ دہر کا پہلا شگُن محبت ہے...
ہم اہلِ عشق زمانے کے کام کے تو نہیں
ہمارے پاس فقط ایک گُن محبت ہے...
تمہیں یقینِ محبت نہیں ہے؟ حیرت ہے
خدا کا حکم محبت ہے! "کُن" محبت ہے...
بچھڑتے وقت فقط مسکرا کے دیکھا تھا
میں اس کو بول نہ پا ئی کہ سُن محبت ہے۔..
وہ مِلے تو محرم بَن کے مِلے😍
دِل بھِی راضِی , رَب بھِی راضِی... 👌
تنہایوں کا اک الگ ہی مزا ہے 🔥
اس میں ڈر نہیں ہوتا کسی کے چھوڑ جانے کا 💔
آپکی خواہشیں بجا لیکن انسان
کھیلنے کی چیز نہیں ہوتے🖤😥
زندگی کی دوڑ میں تجربہ کچا ہی رہ گیا
😊😊😊😊😊
ہم سیکھ نہ پائے فریب اور ♥️دل بچہ ہی رہ گیا
♡
وہ تو یُوں تھا کہ ہم
اپنی اپنی ضرورت کی خاطِر مِلے !
اپنے اپنے تقاضوں کو پورا کِیا !
اپنے اپنے اِرادوں کی تکمیل میں
تِیرہ و تار خواش کی سنگلاخ راہوں پہ چلتے رہے !
پِھر بھی راہوں میں کِتنے شگوفے کِھلے !
وہ تو یوں تھا کہ بڑھتے گئے سِلسلے!
ورنہ یوں ہے کہ ہم اجنبی کل بھی تھے،
اجنبی اب بھی ہیں !
اب بھی یوں ہے کہ .....
تُم ہر قسم توڑ دو، سب ضِدیں چھوڑ دو !
اور اگر یوں نہ تھا تو، یونہی سوچ لو
تُم نے اِقرار ہی کب کیا تھا کہ
میں تّم سے منسوب ہوں !
میں نے اِصرار ہی کب کیا تھا کہ
تُم یاد آؤ مُجھے !
بُھول جاؤ مجھے !
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ
کچھ تو مرے پندار محبت کا بھرم رکھ
تو بھی تو کبھی مجھ کو منانے کے لیے آ
پہلے سے مراسم نہ سہی پھر بھی کبھی تو
رسم و رہ دنیا ہی نبھانے کے لیے آ
کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم
تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے آ
اک عمر سے ہوں لذت گریہ سے بھی محروم
اے راحت جاں مجھ کو رلانے کے لیے آ
اب تک دل خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیں
یہ آخری شمعیں بھی بجھانے کے لیے آ
محفلِ حسن تھی_______میخانہ تھا ساقی کا...
شاعری عروج پہ پہنچی تو سامنے رقیب آ بیٹھا..
کبھی#سوچا " بھی نہ تھا ۔۔۔
اتنا "سوچیں " گے#تمہیں....❤
ﺯﯾﺐ ﺩﯾﺘﺎ ﻫﮯ ﺍُﺳﮯ ﺍﺗﻨﺎ ﺗﻐﺎﻓﻞ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ...
ﻭﮦ ﮐﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﻣﺼﺮﻭﻑِ ﻭﻓﺎ ﻫﮯ ﺷﺎﯾﺪ .
تو سمجھتا تھا فضول ہمیں...
اب ہمت کر اور بھول ہمیں❤
اچھا ہی ہوا کہ تم نے مجھے تو ڑ دیا♥😥😥
بہت غرو ر تھا ہمیں ،تیرے ہو نے کا۔💔💔
آپ سے پیار ہوتا جاتا ہے
کام دُشوار ہوتا جاتا ہے
عقل کرتی ہے جتنی تدبیریں
عشق بیمار ہوتا جاتا ہے
کوئی لغزش نہ یار ہوجائے
شوق آزار ہوتا جاتا ہے
جس قدر حالِ دل چھپاتے ہیں
صاف اِظہار ہوتا جاتا ہے
زخمِ احساس کی خلش سے عدم
پھول بھی خار ہوتا جاتا ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain