ہمارے ذکر پہ لوگوں سے کہ دیا اس نے...!!!
مرگیا ہوگا بات کرتا تھا جان دینے کی...!!!
توڑ دے ہر اک آس کی ڈوری، آسوں میں کیا رکھا ہے
عشق محبت باتیں ہیں اور باتوں میں کیا رکھا ہے
قسمت میں جو لکھا ہے وہ آخر ہو کر رہنا ہے
چند لکیریں الجھی سی اور ہاتھوں میں کیا رکھا ہے
سنگ مرمر سے تراشا ہوا یہ شوخ بدن
اتنا دلکش ہے کہ اپنانے کو جی چاہتا ہے۔
سرخ ہونٹوں پہ تھرکتی ہے یہ رنگین شراب
جسے پی کر بہک جانے کو جی چاہتا ہے۔
نرم سینے میں دھڑکتے ہیں وہ نازک طوفان
جن کے لہروں میں اترجانے کو جی چاہتا ہے۔
تم سے کیا رشتہ ہے کب سے ہے یہ معلوم نہیں
لیکن اس حسن پر مر جانے کو جی چاہتا ہے۔
اپنے ہاتھوں سے سنوارا ہے تمہیں قدرت نے
دیکھ کر دیکھتے رہ جانے کو جی چاہتا ہے۔
رکھ لے کل کے لئے یہ دوسری پازیب دل
کل اسی بزم میں پھر آنے کو جی چاہتا ہے..
جب محبت میں سب جائز ہو جائے
وہاں محبت جائز نہیں رہتی
ادھورا چھوڑ کر وہ آ ج مجھ کو۔۔۔۔!! 🙂
مکمل کر گیا عشق میرا۔۔۔۔!! 🔥🍂
*صبر کی ایک بات بہت اچھی ہے*
*جب آجاتا ہے تو کسی کی طلب نہیں رہتی💯😪😪😔*
ہم آج بھی ہیں سوچ میں ڈوبے ہوئے محسنؔ
خود سے کبھی دنیا سے روٹھے ہوئے محسنؔ
دینے کے لئے اس کو، جو ہم نے سنبھالے تھے
وہ پھول کتابوں میں ہیں، سوکھے ہوئے محسنؔ
وہ اپنی جفاؤں میں کچھ کمی تو کریں آج
اک عمر ہوئی شہر وہ چھوڑے ہوئے محسنؔ
ہم نے یہ کہا تھا کہ انہیں پیار ہے ہم سے
ہم آج بھری بزم میں جھوٹے ہوئے محسنؔ
آغوش میں ان کی ہمیں راحت جو ملی ہے
ہم آج کچھ اندر سے ہیں ٹوٹے ہوۓ محسن
محسن نقوی
جھانکیئے مت ،،،، جناب آنکھوں میں💕
ان میں خطرہ ہے ۔۔۔۔۔۔ ڈوب جانے کا💕
"غالب" نظر کے سامنے حسن و جمال تها ،،
"محسن" وہ بشر خود میں سراپا کمال تها ،،
ہم نے "فراز" ایسا کوئ دیکها نہیں تها ،،
ایسا لگا "وصی" کہ وہ گدڑی میں لعل تها ،،
اب "میر" کیا بیان کریں اسکی نزاکت ،،
ہم "فیض" اسے چهو نہ سکے یہ ملال تها ،،
اسکو "قمر" جو دیکها تو حیران رہ گۓ ،،
اے "داغ" تیری غزل تها وہ بیمثال تها ،،
"اقبال" تیری شاعری ہے جیسے باکمال ،،
وہ بهی "جگر" کے لفظوں کا پرکیف جال تها ،،
بلکل تمہارے گیتوں کے جیسا تها وہ "قتیل"
یعنی "رضا" یہ سچ ہے کہ وہ لازوال تها ،،_____♡☆♡
*اس شخص کو کوئی نہیں*
*بدل سکتا جس شخص کو*
*اپنے اندر کوئی غلطی*
*نظر نہ آتی ہو*
دل بھی بجھا ہو شام کی پرچھائیاں بھی ہوں
مر جائیے جو ایسے میں تنہائیاں بھی ہوں
آنکھوں کی سرخ لہر ہے موجِ سپردگی
یہ کیا ضرور ہے کہ اب انگڑائیاں بھی ہوں
!ہر حسنِ سادہ لوح نہ دل میں اتر سکا
کچھ تو مزاجِ یار میں گہرائیاں بھی ہوں
دنیا کے تذکرے تو طبیعت ہی لے بجھے
بات اس کی ہو تو پھر سحن آرائیاں بھی ہوں
پہلے پہل کا عشق ابھی یاد ہے فراز
دل خود یہ چاہتا تھا کہ رسوائیاں بھی ہوں...
جب قید کیا تھا تو پھر پَر کیوں کاٹے میرے
یقین نہیں تھا کیا تمہیں اپنی زنجیروں پہ✌💔
💞کبھی یاد آؤں تو پوچھنا💞
💞ذرا اپنی فرصتِ شام سے💞
💞کِسے عِشق تھا تیری ذات سے💞
💞کِسے پیار تھا تیرے نام سے💞
💞ذرا یاد کر کہ وہ کون تھا 💞
💞جو کبھی تجھے بھی عزیز تھا 💞
💞وہ جو جی اُٹھا تیرے نام سے💞
💞وہ جو مر مٹا تیرے نام پے💞
💞ہمیں بے رُخی کا نہیں گلہ💞
💞کہ یہی وفاؤں کا ہے صلہ💞
💞مگر ایسا جرم تھا کونسا ؟💞
💞گئے ہم دعا ؤ سلام سے💞
💞کبھی یاد آؤں تو پوچھنا💞
💞ذرا اپنی فرصتِ شام س
نا قدری کرنے والوں کو اپنا سایہ تک میسر نا ہونے دیجئے 🙄🙄
پھر چاہے وہ روئیں چیخیں چلائیں یا پھر مر جائیں 😏💔
نا کھولو میرے درد سے لپٹی کتابوں کو
! لفظ جی اٹھے تو خوف سے مارے جاؤگے!
ہر وہ شخص اکیلا ہے
جس نے سچی محبت کی ہے 😑💔🔥
"دل توڑ کر ___ عبادتیں کرتے ہو.🍀🌸
دعا ہے تیرے سجدے قبول ہوں"!❤✌
کوئی لےرہا تھا محبت کی چادرعشق کےبازارسے...!
ھجوم سےآواز آئی کفن بھی لے جاؤ اگر عشق کرنا ہے💔
سکون ملا نہ تجھے روبرو کر کے
میں اور ٹوٹ گیا تجھ سے گفتگو کر کے
😍
💘کبھی ھم سے بھی دو پل کی ملاقات کر لیا کرو💔
💘کیا پتا آج ھم ترس رھے ھیں کل تم ڈھونڈتے رہ جاؤ 💔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain