نظر اٹھا کے مرے سامنے کھڑے ہو تم مجھے خبر ہے کہ پہلے سے اب بڑے ہو تم یہ ٹہنیاں نہیں دیکھو تو میری بانہیں ہیں اور ان سے پھول نہیں دوستو جھڑے ہو تم سنا ہے اس نے کہیں اور دل لگا لیا ہے وہ جس کے واسطے آپس میں لڑ پڑے ہو تم مہک بتاتی ہے اس کی گلی میں رہتے ہو مرے گلے سے لگو، دور کیوں کھڑے ہو تم بندھے ہوئے مرے ہاتھوں پہ ایک بوسہ دو کہ اس انگوٹھی میں پتھر نہیں جڑے ہو تم
میں نے پوچھا تھا! کہ اظہار نہیں ہو سکتا؟ دل پکارا۔۔۔کہ خبردار............. نہیں ہو سکتا اِک محبت تو کئی بار بھی ہو سکتی ہے ایک ہی شخص کئی بار نہیں ہو سکتا جس سے پوچھیں تیرے بارے میں یہی کہتا ہے خوبصورت ہے...................وفادار نہیں ہو سکتا