ورق ورق پہ تیری حکایت,تیری باتیں,تیرا فسانہ!!! کتابِ ہستی جہاں سے کھولی تیری محبت کا باب نکلا
جب کبهی جی میں آے تو لے لینا امتحان ہماری وفا کا لہو بهی دیں گے چراغوں میں جلانے کے لیے✌🔥
💕کبھی کبھی آپ جس کو اپنے ساتھ کھڑے ہونے کی جگہ دے دیتے ہیں وہی آپ کو دھکا دے کر نیچے گراتا ہے لیکن مایوس نہیں ہونا چاہیئے، کیونکہ آپکی اچھائی کے عوض قدرت آپ کو پہلے سے اچھی جگہ عطا کر دیتی ہے💕
تمہیں محبت نا تھی وگرنہ ——————— محبوب خامیوں کے ساتھ قبول کیے جاتے ہیں ❤️
بس یہ اک سوچ مجھے روز اذیت دیتی ہے کیا میرے بعد میری قبر سنوارے گا کوئ اور ختم ہوجاۓ گا جب میرا تسلسل یہ وجود کیا میرے بعد میرا نام پکارے گا کوئ
میں نے تڑپ کر کہا کہ,مجھے تم بہت یاد آتے ہو وہ مسکرا کر بولے تم غریبوں کو اور آتا کیا ہے
تراش لیا خود کو اس ادا سے بھاڑمیں جاۓ دنیا میری بلا سے
باہر رونقیں لگائے بیٹھے ہیں 🙂 اندر سے قبرستان ہیں ہم ۔ 🥀
لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی۔۔۔ ہاتھ آجاے مجھے میرا مقام اے ساقی۔۔۔
بس ایک ہی بلا ہے محبت کہیں جسے وہ پانیوں میں آگ لگاتی ہے آج بھی
میں تو دشمن کے بچھڑنے پہ بھی رویا ہوں بہت تُو تو پھر یار ہے اور یار بھی جذباتی ہے
وہ اتر گئے تھے جو پار خود مجھے بیچ بحر میں چھوڑ کر تھا جو ان میں اتنا ہی حوصلہ مجھے ڈوبتا بھی تو دیکھتے
عمر کے یہ کونسے حصے میں آ ٹھہرا ہوں میں یوں نہیں آتا تھا پہلے رائیگانی کا خیال
یہ الگ بات تجھے ٹوٹ کے چاہا لیکن دل بے مایہ نے کچھ بھی نہیں چاہا تجھ سے
کسی بھی وقت بدل سکتا ہے لمحہ کوئی اس قدر خوش بھی نہ ہو میری پریشانی پر